ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 414
(ج) (المرسلات:۴۲) اور ظل شی بمقابل ضوء قمروشمس ہوتا ہے۔اور قرآن مجید میں ہے(الدھر:۱۴) جواب۔سایہ تو عرش کا بھی حدیث میں آیا ہے۔خدا کے فضل کا سایہ بھی ہے۔صرف سورج سے ہی سایہ کا تعلق نہیں اور دنیا میں یہ پیشگوئی تو جس طرح پوری ہوئی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔سوال ششم:۔صنما رہِ قلندری زِ دار بہ من نمائی کہ ازو دور دیدم رہ و رسم پارسائی جواب۔ایک اور بزرگ نے کہا ہے ؎ روح پدرم شاد کہ مے گفت بہ استاد فرزند مرا عشق بیاموز دگر ہیچ انسان کو جب جناب الٰہی کا فضل جذب کرلیتا ہے تو پھر ضرورت مجاہدات نہیں رہتی۔اسے رہ قلندر سے صوفیاء نے تعبیر کیا ہے۔مجاہدات سے پہنچنا ایک مشکل راہ ہے اور عشق الٰہی کا جذبہ دم کے دم میںکہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے۔سوال ہفتم:۔واہ گورو نے خوب سمجھائی سرسوں پھولی آنکھوں میں نگل گئی پربت کو رائی سرسوں پھولی آنکھوں میں جواب۔گورو کی کلام سے حیرت بڑھ جاتی ہے اور وہ باتیں جو بہت سے کتابیں پڑھنے سے سمجھ میں نہیں آتیں ایک دم کی صحبت سے حل ہوجاتی ہیں۔اس وقت پہاڑوں کے پہاڑ تل میں سما جاتے ہیں۔ایک شخص نے پچھلے دنوں رؤیا میں دیکھا کہ پہاڑ اس کی آنکھ میں جذب ہوگیا ہے۔جس کی تعبیر یہی ہے کہ قرآن کے علوم اسے آگئے۔پس جس پر خدا کا فضل ہو اور مرشد برحق مل جائے اس کا دل