ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 413 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 413

جواب۔اس کے جواب میں عرض ہے کہ جو مطلوب ہے وہ طالب بھی ہے۔آپ نے سنا ہوگا:۔؎ عشق در معشوق از عاشق فزوں دارد اثر پس طالب و مطلوب ایک نقطہ پر آکر متحد ہوجاتے ہیں۔پس طالب و مطلوب میں یہ امتیاز من و تو نہیں رہتا۔اور فنا بقا شہودی ہے وجودی نہیں۔سوال چہارم:۔صفات سمع و بصر ،علم راز یا ربگیر وگرنہ اے دل ناداں پایٔ آسان نیست کسی چیز کے قیام کے لیے ترپائی کی ضرورت ہوتی ہے۔پس معرفت حقہ کے لیے بھی سمع، بصر، علم کی صفات کے حصول کی ضرورت ہے۔قرآن مجید میں بھی(بنی اسرائیل:۳۷) آیا ہے۔سوال پنجم:۔(الف)سورہ واقعہ میں ایک جگہ (الواقعۃ:۴۰،۴۱)۔اور پھر اسی سورۃ میں (الواقعۃ:۱۵)بھی فرمایا۔جواب۔آپ غور سے دیکھیں مقربوں کے بارے میں (الواقعۃ:۱۴،۱۵) فرمایا ہے۔اور اصحب الیمین کے لیے (الواقعۃ:۴۰،۴۱)فرمایا۔یعنی (الواقعۃ:۴۱)(الواقعۃ:۱۵)دو الگ الگ گروہوں کے لیے فرمایا۔(ب) کسی آیت سے سبقت خلق سمٰوٰت اور کسی سے سبقت خلقت ارض ثابت ہوتی ہے۔جواب۔یہ بھی صحیح نہیں (النٰزعٰت:۳۱) آیا ہے جس سے صرف اتنا معلوم ہوا کہ دَحْوِارض بعد میں ہوئی۔