ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 405 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 405

بھول گئے ہمیں زہر دینا، ہماری عورتوں کو چھین لینا تو ان کے فتاویٰ ہیں۔مگر ہمارے دو مخلص ان کی مہربانی سے قتل ہوچکے ہیں۔علی گڈھ کے سیکرٹری نواب صاحب نے اس امر کو خوب سمجھا اور احمدی لڑکوں کے لیے ایک کمرہ نماز کے واسطے الگ کرایا۔آپ ذرہ عاقبت اندیش دل سے مشورہ لیں کہ ہم نے کیسا امن کا راہ اختیار کیا ہے۔گورنمنٹ انگریزی کثرت کا لحاظ کرتی ہے اور ہم ہیں کم آپ (المائدۃ:۱۵) پر بھی توجہ فرماویں کہ یہود و نصاریٰ کے باہم تباغض کی جڑھ اس آیت کریمہ میں کیا ارشاد فرمائی ہے۔آپ مجھ سے وہ آیت و حدیث دریافت فرماتے ہیں جن کی بنا پر ہم لوگ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔مجھے اس دریافت پر خوشی ہوئی (السجدۃ:۲۵) امام بننے کے لیے اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے کہ ائمہ وہ ہیں جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت فرماتے ہیں جب کہ وہ صبر کرتے ہیں اور ہماری آیات پر یقین کرتے ہیں۔آپ غورفرماویں کہ ایک آیت کے اندر تین شرطیں ہیں۔کیا آپ فرماسکتے ہیں کہ یہ فتویٰ گر قاتل کہنے والے، زہر دینے والے، عورتیں چھیننے والے ان شرائط کے جامع ہیں۔یہ انصاف آپ پر ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے مَنْ قَالَ لِاَخِیْہِ الْمُسْلِمِ یَا کَافِرُ فَقَدْ بَائَ بِہٖ اَحَدُھُمَا۔(التبصیر فی الدین و تمییز الفرقۃ الناجیۃ عن الفرق الھالکین۔الکاملیۃ) ہم یقینا اللہ تعالیٰ کو وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ مانتے ہیں۔ملائکہ، انبیاء، رسل، کتب اللہ پر ایمان ہے۔نمازیں پڑھتے، زکوٰتیں دیتے ، حج کرتے، روزہ رکھتے ہیں اور یہ ہمارا ایمان ہے۔پھر جو ہمیںکافر کہتا ہے اور کافر سے بدتر ہم سے معاملہ کرتا ہے وہ اس حدیث کے مطابق اپنے آپ کو کیا فتویٰ دیتا ہے۔ہم فتوے نہیں دیتے۔قرآن کریم نے دو شخصوں کو بڑا ظالم ٹھہرایا ہے۔ایک وہ جو اللہ تعالیٰ پرافترا باندھے۔دوسرا وہ جو را ستباز کو اور اس کی حق تعلیم کا انکار کرے۔قرآن مجید میں ہے(العنکبوت:۶۹) اب ظالم تو یا مرزا ہے یا یہ مکفرین۔مرزا کو تو ہم مفتری نہیں مان سکتے۔ان کو کیا کہی