ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 400
؍ جون ۱۹۱۱ء مسلمانوں میں پائے جانے والے دو مرض فرمایا۔مسلمان جب سے اس مرض میں مبتلا ہوئے ہیں ذلیل ہیں۔وہ خدا کے فضل کو بھول گئے ہیںاور ’’تسخیر‘‘ کے پیچھے پڑگئے۔ہماری طرف جب رجوع خلائق دیکھتے ہیں تو گمان کرتے ہیں ہمیں کوئی وظیفہ یاد ہے جس سے تسخیر کرلیا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ (الجاثیۃ:۱۴) (۲)(النحل:۱۳) جب یہ نعمت قرآن مجید میں پہلے ہی موجود ہے تو اس قدر گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔دوسرا مرض مسلمانوں میں ناشکری ہے اور وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے۔حلال رزق سے اولاد نیک صالح پیدا ہوتی ہے اور عبادت میں لذت ملتی ہے۔پہاڑوں کے فوائد فرمایا۔پہاڑوں کے فائدے ہیں۔از آنجملہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (النحل:۱۶) جس کے چار معنے ہیں۔(۱) تاکہ تم ہلاک نہ ہوجاؤ۔(۲)پہاڑ تمہارے ساتھ چکر کرتے ہیں۔(۳)کھانا دیتے ہیں تمہیں۔(۴)زمین ایک طرف جھک نہ جائے۔ایک بال بھی نعمت ہے فرمایا۔انسان کا ایک ایک بال بھی نعمت ہے۔دیکھو ایک بانکے جوان پر ایک بال بھی سفید آجائے جب تک مونچنے سے نوچ نہ لے اسے قرار نہیں آتا۔بدیوں سے بچنے کے لیے ضروری امر فرمایا۔بدیوں سے بچنے کے لیے اسی بات کا مطالعہ سخت ضروری ہے کہ اللہ چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔۳؍ جولائی ۱۹۱۱ء ہجرت اور اس کا اجر فرمایا۔ہجرت یہ ہے کہ ایک چیز سے تعلق ہے اور اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔بس اس تعلق کو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے چھوڑ دیا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے