ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 3 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 3

قرآن کریم میں بھی ارشاد ہوا۔(الاحزاب: ۷۰)۔اور ایذاء، تبریہ ، قول الاعدا اور ان کے عنداللہ وجیہہ ہونے کا ذکر فرمایا۔مسیح علیہ السلام کو جو کہا گیا وہ(النساء:۱۵۷)کے بیان کو سن کر زیادہ کیا لکھوں۔ہماری سرکار حضرت خاتم النبیین رسول ربّ العالمین کی نسبت جو کچھ یورپ وامریکہ و ایشیاء افریقہ اور ہندوستان نے ……اور اس کے بھائیوں نے کہا اگر اس ناپاک کاغذ کا انبار بن جاتا تو کنچن چنگا سے کیا کم اونچا ہوتا۔فَلَیْسَتْ ھٰذِہٖ بِاَوَّلِ قَارُوْرَۃٍ کَسُرَتْ فِیْ اَیَّامِنَا۔مرز اصاحب ۱۳۲۶مغفور کے مقابلے آپ کی زندگی میں مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا اور آپ کامیاب ہو گئے اور ہم لوگوں کے سامنے ہزاروں ربانی پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور ہم نے مشاہدہ کیں۔پس جن پیشگوئیوں پر ان کا اعتراض ہے اگر وہ پوری ہو جاتیں تو کیا مخالف مان لیتے۔وَالتَّجْرِبَۃُ تَشْہَدُ عَلٰی مَا تَشْہَدُ۔بہرحال کچھ لکھو۔میں اپنے دلی خیال کے ایک حصہ کو ان سوالات کے متعلق ظاہر کرتا ہوں جو آپ نے لکھے ہیں کہ لوگ بتاتے ہیں۔اوّل یہ کہ توسیع مدت حیات پر لوگ اعتراض کرتے ہیں۔جناب من! سنہ تو لد کا پتہ لگانا اس ملک خاص کر ہمارے جیسے گائوں میں آیا مشکل امر تھا یا کہ نہیں۔کسی وقت بے ریب مسلمانوں کو بھی یہ فخر حاصل تھا کہ ان کی تاریخوں اور بائیو گرافیوں میں ہمارے اسلاف کا سنہ تولد اور سنہ وفات کیسا مفصل درج ہوتا رہا ہے مگر پنجاب پر تو سکھوں کے عہد میں وہ افرا تفری گزری ہے۔یَوْمًا بِجُزْوٰی وَیَوْمًا بِالْعَرَاق یہاں سے وہاں، وہاں سے وہاں بھاگتے پھرتے رہے۔حضرت امام نے اس نظارہ کو جو آپ کے خاندان پر گزرا ہے بہت ہی دردناک پیرایہ میں بیان فرمایا ہے۔دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر پھر بھی ہم کو پتہ لگا ہے۔جیسے مرزا سلطان احمد افسر مال فرزند اکبر حضرت مرزا نے بھی بیان