ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 2

ہے حتی کہ اس کا نطق بھی وحی خفی کے حکم میں ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(النّجم:۴ ،۵)۔خلیفہ کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ کو بہت حِصّہ اپنے جزوی امور میں ذاتی اجتہاد سے کام کرنا پڑتا ہے اور جس مامور یا مرسل کا وہ خلیفہ ہوتا ہے اس کی اقتدا اور اتباع کی پابندی اس کے پیش نظر ہوتی ہے۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رئویا صالح یا کشوف اور الہامات اس کو نہ ہوں۔بلکہ بات یہ ہوتی ہے کہ وہاں اجتہاد قلیل اور تائید بذریعہ وحی الٰہی کثرت سے ہوتی ہے اور یہاں وحی قلیل اور اجتہاد کثیر ہوتا ہے۔ہاں خلیفہ کو کسی زمانہ میں رئویا وکشوف ووحی ہوتی ہے مگر پھر بھی خلیفہ اصل مامور کا متبع اور اس کی ہدایات کا پابند ہوتا ہے۔مامور کی بعض پیشگوئیاں باقی ہوتی ہیں ان کے پورا ہونے کے واسطے خلیفہ کا بھی ظہور ضروری ہوتا ہے اور یہ خلفاء کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوجاتی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کو قرآن شریف میں یوں فرمایا ہے۔(یونس :۴۷)۔اللہ تعالیٰ کی یہ ہمیشہ سے سنّت ہے کہ انبیاء کی بعض پیشگوئیاں ان کی زندگی میں پوری ہوتی ہیں اور بعض ان کے بعد ان کے خلفاء کے وقت میں پوری ہوتی ہیں یا نئے مامور پر پوری ہوتی ہیں۔انبیاء ہمیشہ پاک تعلیمات اور پاک اور روحانی تبدیلی کے واسطے بعض روحوں کو مستعد کر کے اپنی تعلیمات کی تخم ریزی کر جاتے ہیں۔پھر ان کی حفاظت اور آبپاشی ان کے خلفاء کے زمانہ میں ہوتی ہے تابہت سی سعید روحوں کو خدمت دین کااجر اور ثواب ملے۔فقط عبدالرحمن قادیانی سب ایڈیٹر (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخہ ۱۸؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) خلیفۃ المسیح کا تازہ خط ہر ایک کامل انسان ہمیشہ اعتراضوں کا نشانہ بنا ہے۔آدم علیہ السلام کو شیطان ہی نے نہیں بلکہ الملائکہ نے بھی مفسد اور سفاک کہا۔موسیٰ علیہ السلام کے موذیوں کا تذکرہ توریت ہی میں نہیں بلکہ