ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 397

دوزخ کے سات دروازے فرمایا۔دوزخ کے سات دروازے خدا نے فرمائے ہیں۔میرا مذہب اس بارے میں یہی ہے کہ اَللّٰہُ اَعْلَم۔بعض صوفیاء نے لکھا ہے کہ انسان دو آنکھوں سے گناہ کرتا ہے۔دو کانوں سے منہ سے اور دو پاؤں اور ایک شرمگاہ۔بس یہی دروازے ہیں جن کے ذریعہ انسان جہنم میں داخل ہوتا ہے۔فضل الٰہی کا اظہار فرمایا۔میرے چار لڑکے ہیں دو لڑکیاں دو ہم ہیں۔آٹھ سے زیادہ گھر کے آدمی ہیں مگر مجھے اس بات کا وہم بھی نہیں اٹھا کہ میرے بعد یہ کیا کھائیں گے۔اللہ تعالیٰ رزاق ہے اسی کی ذات پر بھروسہ ہے۔یہ بات میں نے بڑائی کے لیے نہیں کی بلکہ اس کے فضل کا اظہار ہے۔۲۷؍ جون ۱۹۱۱ء دکھ آنے کی و جہ فرمایا۔متقی سکھ میں رہتا ہے اور دکھ ہمیشہ کسی گناہ کے باعث آتا ہے۔متقین کے لیے ضروری امر فرمایا۔متقیوں کے واسطے ضروری ہے کہ کسی دوسرے بھائی کے لیے کینہ، رنج، غضب نہ ہو (الاعراف:۴۴) سورۃ فاتحہ کی عظمت فرمایا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے تمام بادشاہتوں، دولتوں اور ملکوں اور دنیاوی سازوسامان کو ایک طرف رکھا ہے اور سورہ فاتحہ و قرآن عظیم کو ایک طرف۔اور ارشاد کیا ہے کہ الحمد کے مقابلہ میں سارے جہان کو آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ۔غور کرنے کا مقام ہے۔الحمد ایک طرف ہے اور کل دنیا کا جاہ و جلال ایک طرف۔پس تم اس نعمت عظمیٰ کی قدر کرو۔فرمایا۔یہ بات اس آیت سے ظاہر ہے۔(الحجر:۸۸،۸۹) ہمارے حضرت صاحب نے الحمد کی کئی تفسیریں لکھی ہیں۔شیخ ابن عربی لکھتے ہیں کہ جتنی بار الحمد