ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 392
فرمایا۔حضرت صاحب کی اس بات نے مجھے یقین دلادیا اور میرا ایمان بہت بڑھ گیا کہ یہ شخص فی الواقعہ خدا تعالیٰ کا مامور اور مرسل ہے۔کیونکہ اس کی فطرت اور اس کا ایمان ہی ایسا ہے کہ جس کو یہ خود نہیں مانتا دوسروں سے اس کو منوانا نہیں چاہتا۔پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ اتنا بڑا دعویٰ یونہی کردے۔غرض مجھے حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک ایسا گُر بتادیتا ہوں کہ کوئی آیت آپ کے لیے مشکل ہی نہ رہے۔اور وہ یہ ہے کہ جو اعتراض آپ کے خیال میں نہایت مشکل ہو یا جس آیت پر شرح صدر نہ ہو اس کو موٹی قلم سے لکھ کر ایسی جگہ لٹکالو جہاں آتے جاتے تمہاری نظر ہر وقت اس پر پڑ سکے۔چند روز کے اندر اندر اللہ تعالیٰ اسی اعتراض کی حقیقت اور اس کا جواب سمجھا دے گا۔حضرت اقدس کے اس گُر کو میں صوفیانہ رنگ میں لے گیا اور میں نے یہ قرار دیا کہ سب سے بہتر جگہ جہاں انسان کی ہر وقت نظر پڑ سکے وہ دل ہے۔پس میں نے یہ مناسب سمجھا کہ اگر کوئی ایسا موقعہ ہو تو اسے ہر وقت دل میں زیر توجہ رکھنا چاہیئے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ ایسا کرنے سے بڑا مشکل سے مشکل مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔اور ظاہری طور پر اگر اپنی آمد و رفت کے عام منظر میں لکھ کر لٹکا لیا جاوے تو بھی ضرور مفید ہوتا ہے۔پس اس ایک نکتہ سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ اگر کوئی دشمن اسلام قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر کوئی اعتراض کرے اور تم کو اس کا جواب نہ آتا ہو تو ہم فوراً سکھا دیں گے۔اللہ تعالیٰ کی اس بشارت نے بہت سے موقعوں پر میری تائید فرمائی ہے۔غرض میں نے حضرت صاحب سے یہ گُر سیکھ لیا تھا اور اس کو سب کے واسطے مفید سمجھتا ہوں۔قرآن کریم کے سمجھنے کا ایک اور میرا تجربہ کردہ نسخہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اوّل قرآن مجید کو عمل کے لیے پڑھو۔دوم جو آیات قرآن کریم میں مشکل معلوم ہوں ان کو ایک کاپی پر لکھتے جاؤ۔جب سارا قرآن ایک بار ختم ہوجاوے پھر گھر والوں کو سناؤ۔اس دوسرے دور میں قرآن مجید کے ان مشکل مقامات میں سے جو تم نے نوٹ کیے ہوں بہت سے حل ہوجائیں گے۔پھر تیسرے دور میں بیرونی