ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 389
مال و اولاد فرمایا۔اللہ ہی مال دیتا ہے اسی کا احسان جانو۔ (الزخرف:۳۳) دیکھو میں نے اپنے باپ کا روپیہ ترکہ میں نہیں لیا۔باپ کے مکانات میں بھی نہیں رہتا۔اللہ کا احسان ہے۔پس انسان اولاد کی فکر میں ایسا منہمک کیوں ہو؟ مال کی کیا ہستی ہے؟ اللہ کی شان میں کی گئی بے ادبیاں فرمایا۔اللہ کی شان میں لوگوں نے کئی قسم کی بے ادبیاں کی ہیں۔(۱) مخلوق کی بھی ویسی ہی تعظیم مثل سجدہ کرنا، جیسی کہ خدا کی کرنی چاہیئے۔جو تصرف ذات الٰہی کو ہے وہی مخلوق کا خیال کرنا۔قرآن مجید میں آیا ہے۔(یوسف:۱۰۷) (۲)ایک بدبخت گروہ ہے وہ شرک سے بھی آگے قدم رکھتا ہے۔وہ جناب الٰہی کے لیے ندّ قرار دیتا ہے۔ندّ کہتے ہیں مدّمقابل کو۔مثلاً ایک طرف اللہ کا حکم ہے۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ۔دوسری طرف ایک دوست آشنا بلاتا ہے تو اس طرف دوڑ پڑے۔(۳) ایک گروہ جو غافل ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کی نہ خبر ہے نہ پروا۔مومن کی معراج فرمایا۔نماز مومن کے لیے عجیب معراج ہے۔عین اس وقت جب نیند کی و جہ سے سستی کا زور ہو یا کام سے تھک گئے ہوں جیسے عصر و شام تو نماز پڑھنے کا حکم ہے۔اقامت صلوٰۃ کے تین طریق فرمایا۔اقامت الصلوٰۃ تین طریقوں سے ہے۔(۱)سستی، کاہلی، نادانی، بے خبری نماز کو گراتی ہے۔تم پڑھتے چلے جاؤ۔(۲) اطمینان کے ساتھ فرائض، واجبات، سنن، مستحباب کا لحاظ کرو۔(۳)جناب الٰہی کے حضور خشوع و خضوع سے ایسے کھڑے ہو جیسے کوئی محسن مربی کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔مقصودِ نماز فرمایا۔نماز کی ابتداء اللہ سے ہے اور انتہاء بھی اللہ۔مقصود بھی اللہ ہی ہے۔لوگوں کا بخل فرمایا۔لوگوں کے اندر بخل کا مادہ بہت ہے۔اتنا نہیں سوچتے کہ ایک وقت تھا جبکہ موجودہ آمدنی سے بہت کم آمدنی تھی۔