ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 388 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 388

سے مجھے یہ نکتہء معرفت ملا کہ غافلوں کی صحبت میں غفلت بڑھ جاتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں مجلس میں بیٹھتا ہوں تو ۷۰ سے ۱۰۰ دفعہ تک استغفار کرتا ہوں تاکہ وہ میل جو اس صحبت کا نتیجہ ہو سکتا ہے دور ہو جاوے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ غفلت پیدا کرنے والی صحبتوں سے بچنا چاہیے اور اگر کہیں اتفاق سے بیٹھنا ہو جائے تو پھر استغفار کی کثرت چاہیے تا کہ دل زنگ آلود نہ ہوں۔بُرے کام فرمایا۔میں نے بڑے بڑے بدکاروں سے دریافت کیا ہے کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ہمیں شیطان پکڑ کر برُے کام کی طرف لے گیا آدمی خود ہی جاتا ہے۔ظالم فرمایا۔ظالم وہ ہے جو کام کرنے کے ہوں انہیں نہ کرے اور جو نہ کرنے کے ہوں انہیں کرے۔ایمان اور عمل فرمایا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ایمان الگ اور عمل الگ ہے۔ایسا ہر گز نہیں ایمان کا مقتضا عمل صالحہ ہے جیسا کسی کا ایمان ہوگا ویسا ہی عمل ہوگا۔اللہ کی نافرمانی سے لاپرواہی فرمایا۔لوگ اگر سالن میں نمک زیادہ یا کم ہو جائے تو شور محشر برپا کر دیتے ہیں لیکن بیوی یا بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو کچھ فکر نہیں۔خیالی سکھوں کے لئے ہزاروں انتظام کرتے ہیں مگر اللہ کی نافرمانی سے بے پرواہ ہیں جو بڑے افسوس کی بات ہے۔(البدر جلد۱۰ نمبر ۳۵ مورخہ ۲۹؍ جون۱۹۱۱ء صفحہ ۳ ،۴) ۱۹؍ جون ۱۹۱۱ء قابل افسوس لوگ فرمایا۔افسوس ہے ان پرجو ہلاکت کے گڑھے میں خود ہی نہیں گر پڑتے بلکہ اوروں کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔آنکھوں اور زبان کا استعمال فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں تاکہ قرآن شریف پڑھیں، نیک لوگوں کی زیارت کریں۔زبان دی تا اس کا ذکر کریں۔مگر لوگ ایسے فضلوں کا انکار کرکے جہنم میں چلے جاتے ہیں۔