ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 38
یہ مختصر جواب ہیں جو ایسے خط کے مناسب ہیں اگر تم یہاں آ جائو تو ہم اور عام فہم جواب آپ کو بتا دیں۔والسلام نور الدین ۲۹ستمبر ۱۹۰۸ء شاہراہ کون سی ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک شخص کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ایک راہ ہے مجاہدات و ریاضات کی اور اس کے ماتحت ہے مطالعہ ملفوظات کامل کی اور سماع کلمات موزونہ کی۔ایک راہ ہے ذکر جہر اور ترک لذائذ کی اور اس کے ساتھ ذکرخفی و اخفی و یاد کی۔سمجھ لو ان سب کے اصول گو تعلیم انبیا ء میں کسی نہ کسی (طور ) موجود ہیں۔مگر ایک شاہراہ ہے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔یہاں اَصُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ اُصَلِّیْ وَ اَنَامُ وَ اَتَزَوَّجُ النِّسَائَ (مسند احمد بن حنبل ، مسند المکثرین من الصحابۃ مسند انس بن مالک ؓ حدیث نمبر ۱۳۵۳۴) اور(النحل:۱۲۶) موجود ہے۔شیخ المشائخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ کی عوارف جس کو حضرت فرید الحق و الملۃ و الدین اپنے درس میں رکھتے تھے اور سلطان جی نے اس کو سبقاً پڑھا اور اس سے بھی اعلیٰ رنگ میں حضرت السید الجیلی کی فتوح الغیب ہے اور ادنیٰ رنگ میں تعرف اور رسالہ قشیریہ۔ہاں مفید احیاء العلوم یاقوت القلوب ابو طالب المکی ہے رحمۃ اللہ علیہم۔اور جامع کتاب حجۃ اللہ البالغہ جس کو شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا۔یہ راہ ہے جس کو خاتم الانبیاء لایا۔(صلی اللہ علیہ وسلم)۔آج قرآن کریم اور سنت متواترہ اس کی متکفل ہے وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔اور جن شرائط کا وعظ آپ نے کہا ہے وہ واعظ ہرگز ہرگز مستقل اثر نہیں رکھتا…… گویا آپ نے دیکھا ہو گا اس کے اخلاق و عادات، اس کی دنیا سے سرد مہری، اس کا نماز کو سنوار کر پڑھنا کیا جناب نے ملاحظہ