ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 387 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 387

ایک عجیب نکتہ فرمایا۔ایک عجیب نکتہ ہے کفار نے  (إِبراہیم: ۱۴) کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابل پر(إِبراہیم:۱۴) فرماکر اس ہلاکت کی وجہ بھی بتا دی اور (إِبراہیم:۱۵)کے انعام کا سبب بھی بتا دیا۔ (إِبراہیم :۱۵)۔مائِ صدید پلائے جانے کا نظارہ فرمایا۔ (إِبراہیم :۱۷) کا نظارہ آتشک کے بیماروں میں دیکھا ہے۔جن کے گلوں میں زخم ہو جاتے ہیں انہیں کھاتے پیتے وقت پیپ اور زخموں کا پانی ساتھ ہی نگلنا پڑتا ہے۔خوفِ الٰہی فرمایا۔انسان جو کام کرے خدا سے ڈر کر کرے۔مخلوق کے واسطے گناہ کرنا عاقبت اندیشی نہیں کیونکہ یہ سب جدا ہو جائیں گے اور قبر میں تو اکیلا رہ جاوے گاکسی پنجابی نے کہا ہے۔جنہاں واسطے پاپ کماؤ نا کتھے نی اوہ گھر دے عاقبت کی فکر کرو فرمایا۔ایک وقت آتا ہے کہ ہم تم میں سے ایک بھی نہ ہوگا اور ہماری جگہ اور قوم ہوگی اور نہ یہ مکان نہ یہ حالات۔اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے پس عاقبت کی فکر کرلو۔مخلوق کی بہتری فرمایا۔ہر کام میں دیکھ لو کہ خدا کی پروانگی ہے یا نہیں۔پھر یہ کہ اس میں مخلوق کی بہتری ہے یا نہیں۔پھر کرو۔عاقبت اندیشی کی دعا فرمایا۔میں دعا کرتا ہوں اللہ تمہیں عاقبت اندیش بنادے، دین کے معاملہ میں بھی اور دنیا کے معاملہ میں بھی۔۱۸؍جون۱۹۱۱ء۔اتوار شیطان ہر ایک شریر جو خدا تعالیٰ سے دور ڈالے ، وہ شیطان ہے۔غافلوں کی صحبت میں نے ایک ڈاکو سے پوچھا تم جو اس قدر خونریزی کرتے ہو۔کیا تمہارا دل ملامت نہیں کرتا۔کہا تنہائی میں تو ملامت کرتا ہے مگر جب ہم تین چار مل جاویں تو پھر کچھ یاد نہیں رہتا۔اس