ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 386
ایسے لوگ بھی جو دل سے اپنے بھائی کو نفع پہنچانا چاہتے ہیں وہ بھی دینے میں تأمل کرتے ہیں۔فراغت میں ذکر الٰہی کرنے کی تلقین فرمایا۔جب تم اپنے کار منصبی سے فارغ ہو تو بے ہودہ بحثیں جن سے نہ دنیا کا فائدہ ہو نہ دین کا نہ لے بیٹھو۔بلکہ خدا کی طرف راغب ہو جاؤ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا ذکر کرو، درود پڑھو، استغفار باربار کرو۔الحمد شریف پڑھو اور قرآن مجید کی تلاوت کرو۔عام رائے اور انبیاء کا اجماعی مسئلہ فرمایا۔فلسفیوں کا کسی مسئلہ پر اتفاق نہیں۔رسم و عادت کے کسی مسئلے میں لوگوں کا اتفاق نہیں حتی کہ خوراک اور پوشاک میں ایک ملک کے لوگوں کا اتفاق نہیںپھر بھی لوگ عام رائے کی پیروی کرتے ہیں۔تعجب کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اجماعی مسئلے کے ماننے میں تأمل ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔نبی کی بشریّت فرمایا۔نبی کے مقابل جو لوگ (إِبراہیم :۱۱)کہتے ہیں ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ بادشاہ جسے وہ حاکم اعلیٰ مانتے ہیں آخر وہ بھی تو انسان ہی ہوتا ہے۔توکل علی اللہ فرمایا۔اللہ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں کہ سامان الٰہی کو ترک کردے بلکہ سامان سے کام لے کر پھر نتیجہ کے لئے اللہ پر توکل کرے۔کفرانِ نعمت فرمایا۔یہ بھی ایک قسم کا کفر اور کفران نعمت ہے کہ آدمی بھلی بات سن لے اور اس پر عمل نہ کرے۔۱۷؍جون۱۹۱۱ء۔ہفتہ اللہ تعالیٰ سے بُعد کا نتیجہ فرمایا۔جب انسان اللہ سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ایسے شخص کو اللہ جلّشانہٗ کی طاقت کی پرواہ نہیں ہوتی اپنے ہی منصوبوں پر بھروسہ کرتا ہے۔اس بلامیں بہت سی خلقت مبتلا ہے یہ بلا اللہ کی غفلت اور اس سے بُعد اختیار کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔جن کو غفلت نہیں وہ ہر آن میں اپنے تئیں زیر تصرف الٰہی مانتے ہیں جن لوگوں نے الٰہی عظمت و جبروت کا انکار کیا ہے انہوں نے رسولوں کو اپنے جیسے بشر سمجھ کر کہہ دیا کہ جتھا ہمارا زور ہمارا ہمیں ان کی کیا پرواہ۔