ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 385 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 385

اگر میں اپنی روحانی تعلیم سمجھا سکا ہوں تو اپنے تئیں مبارکباد دیتا ہوں۔اگر تم نہیں سمجھے تو انشاء اللہ پھر خدا توفیق دے گا۔فرمایا۔محض تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں اللہ نے مجھے تم میں سے ایک کا بھی محتاج نہیں کیا۔میں کسی سے مفت کام لینا پسند نہیں کرتا۔سات ماہ سے بیمار ہوں۔تنہائی کا موقع بھی نہیں ملتا مگر پھر بھی تم میں سے کوئی میرے رزق کا پتہ نہیں لگا سکا کہ میرا مولیٰ کہاں سے بیش از پیش دیتا ہے۔یہ اس کی غریب نوازی ہے۔۱۵؍جون ۱۹۱۱ء شکر گزاری فرمایا۔جو اللہ تعالیٰ دے وہ بندہ شکر گذاری سے لے تو ضرور زیادہ انعام ملتا ہے۔ایک عورت نے مجھے ایک دفعہ ۱ دھیلہ دیاجو میں نے بڑی شکر گذاری سے لیا کہ اس کے تیل کی روشنی میں نسخے لکھا کروں گا تو مخلوق کو کس قدر نفع پہنچ سکتا ہے۔اگر میں فن طبابت سے اسی ادھیلہ کی ایک دوائی بنا لوں تو وہ کس قدر مخلوق الٰہی کے لئے نافع ہو سکتی ہے۔شفاء اللہ کے ہاتھ میں ہے فرمایا۔شفاء اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے میرے اس زخم پر دس ڈاکٹروں نے اپنا زور لگایا ہے مگر یہ بات بھی حل نہ کر سکے کہ یہ ہے کیا۔خدا کی صفت خلق کی ازلیّت فرمایا۔بعض لوگ دنیا کو ۶،۷ ہزار سال سے جانتے ہیں، بعض دو ارب سے، بعض سنکھ پر بھی کئی صفریں ایزاد کرتے ہیں لیکن خدا کی خدائی اور اس کی صفت خلق کی ازلیّت کے مقابل پر یہ ہندسے کیا چیز ہیں۔تجربہ کار سے مشورہ فرمایا۔لوگ تجارت کرتے ہیں مگر نہ کسی تجربہ کار سے مشورہ لیتے ہیں نہ حساب صاف رکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔قرضہ حسنہ فرمایا۔قرضۂ حسنہ بہت اچھی چیز ہے لیکن آج کل وعدہ پر کم ادا کیا جاتا ہے جس سے