ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 384
ان شغلوں میں ایک شغل اپنی توجہ الی اللہ و ذکر اللہ کا بتا دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں دنیا کے کام بے شک کرو بیوی بچے رکھو جیسا کہ انبیاء کے لئے بھی تھے اور سورہ رعد کے آخری رکوع سے معلوم ہوتا ہے لیکن خدا سے غافل نہ ہو جاؤ۔یہی روحانی تعلیم ہے یہی روحانیت ہے جو انبیاء کرام اور ان کے جانشین سکھانے آتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آئے دنیا کے مختلف اشغال تھے آپؐنے فرمایا۔پانچ وقت نماز بھی پڑھ لیا کرو۔پاخانہ جانا سب کو ضرور ہے وہاں اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ(صحیح بخاری کتاب الوضوء باب مایقول عند الخلاء)بھی پڑھ لو۔ایسا ہی بیویوں کے پاس سب کوئی جاتا ہے آپؐ نے ایک دعا سکھا دی کہ یہ بھی پڑھ لیا کرو۔غرض روحانیت اور روحانی تعلیم یہ ہے کہ انسان فطری کام کرے پاخانہ جائے ، کھائے پیئے، احباب کو ملے جلے، بیوی نکاح کرے، جماع کرے، کمائے مگر اللہ سے غافل نہ ہو۔یہ نہیں کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ رہے۔یہ طریق انبیاء کی سنت کے خلاف ہے۔خلیفۃ المسیح کی روحانی تعلیم جائز کام کرنے سے منع نہیں فرمایا۔ہاں یہ ضرور ارشاد ہے کہ (الأَعراف :۱۵۸) یعنی مضر چیزوں سے رکا رہے مفید کاموں میں لگے۔مجھ سے بھی لوگوں نے پوچھا ہے کہ تم کیا روحانی تعلیم دیتے ہو۔اور اس جماعت میں کیا روحانیت ہے؟ سو میں کھول کر سناتا ہوںکہ روحانیت یہی ہے تمہارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا،پھرنا، سونا،جاگنا، پڑھنا، تجارت کرنا، کوئی اور محنت، ملناجلنا، سب کچھ اللہ کے لئے ہو۔سب میں خدا یاد رہے، اپنے سارے کاموں میں اللہ کی رضا مدِّنظر رکھو۔پس یہی تصوف، یہی فقیری،یہی روحانیت،یہی روحانی تعلیم ہے۔قرآن مجید کورحل پر رکھنا اور اوپر ایک کپڑا یہ ظاہری ادب بمنزلہ جسم کے ہے اگر دل کے اندر اس کے احکام کی ایسی ہی عزت ہو تویہ اس کی روح ہے۔زبان ذکر الٰہی کرے یہ جسم ہے اگر اس کے ساتھ اخلاص اور تعظیم اوامر حضرت احدیت ہے تو یہ اس کی روح ہے۔قرآن مجید پڑھنا اور اس کے معنے سیکھنا یہ بمنزلہ جسم ہے اور اس پر عملد رآمد یہ اس کی روح ہے۔وعظ سننا جسم ہے اور اس پر عمل روح ہے۔