ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 382

عربی کی فصاحت کاثبوت فرمایا۔قرآن مجید کا نام حکم عربی بھی ہے یعنی فیصلہ کرنے والا کھول کھول کر سنانے والا۔عربیکے بھی یہی معنے ہیں۔ایک شخص نے معنوں پر تعجب کیا تو میں نے اسے کہا کہ انبیاء کرام کے نزدیک اور کتب الٰہیہ میں اصل الاصول تمام نیکیوں کا کیا ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ پر ایمان لانا۔میں نے کہا دنیا کی کسی زبان میں اس ربّ العالمین، الرحمٰن، الرحیم، مالک یوم الدین ہستی کے لئے ایسا لفظ بتا دو جو غیر پر استعمال نہ ہوتا ہو۔برخلاف عربی میں ایک اللہ ہے جو کبھی غیر اللہ پر نہیں بولا جاتا۔یہاں تک کہ تمام دواوین اور لغت عرب کو دیکھو کسی فاسق سے فاسق، ملحد، دہریہ کے کلام میں بھی یہ لفظ کسی غیر پر نہیں بولا جاوے گا۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ عربی ہی ایک فصیح اور کھول کھول کر بیان کرنے والی زبان ہے۔فرمایا۔میں دعا کرتا ہوں اللہ تمہیں قرآن پڑھنے پڑھانے اس پر عمل کرنے پھر آپس میں محبت بڑھانے کی توفیق دے۔یاد رکھو کہ سب باتیں بغیر عمل کے ہیچ ہیں۔۱۳؍جون ۱۹۱۱ء مخلوق کی مختلف طبائع دنیا میں مخلوق کی مختلف طبائع ہیں۔بعض لوگ افیون، گانجا، بھنگ، شراب شروع کر دیتے ہیں تاکہ وقت آرام سے کٹ جاوے۔(۲) بعض اپنے آرام اور دل بہلانے کے لئے رنڈیوں کی چلمیں بھرنا اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور اس ہنسی مخول سے اپنا دل خوش کر لیتے ہیں جو وہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔(۳) بعض لوگ وظیفوں میں سارا دن رات گذار دیتے ہیں اور سخت سے سخت مجاہدے اس راہ میں کرتے ہیں کم خفتن،کم گفتن ، کم خوردن ان کا اصول ہوتا ہے اور بڑی مشکلات کے بعد وہ اپنی حالت ایسی بنا لیتے ہیں کہ جس سے دل آرام میں رہتا ہے۔(۴) بعض لوگ تعلیم و تعلّم اپنا پیشہ رکھتے ہیں۔صبح سے شام تک درس و تدریس میں لگے رہتے