ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 37

پڑھے اسی کا نام تراویح ہے۔صحابہ کرام نے لوگوں کو سست ہوتے دیکھا تو ابی بن کعب نے جماعت کے ساتھ اوّل وقت جماعت کر ائی۔مگر صحابہ کرام آخر وقت کو پسند کرتے تھے۔میں خود آخری وقت میں سحر کی روٹی سے پہلے گیارہ رکعت پڑھتا ہوں اور اُس میں قرآن مجید سنایا جاتا ہے اور ہماری جامع مسجد میں بعد العشاء گیارہ رکعت پڑھ لیتے ہیں۔یہ قیام رمضان ہے جس کا دوسرا نام تراویح پڑ گیا۔پیشاب سے بچنا اور اُس سے حفاظت ضرور ہے ڈھیلا لینا کوئی فرض واجب اور سنت نہیں۔ہم لوگ تو پانی بہا لیتے ہیں۔مگر جن کو تھوڑی دیر تقطیر البول ہو وہ غریب کیا کرے۔ہاں ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ہاتھ میں شرمگاہ کو پکڑ کر انسان گلیوں میں کھڑا ہو۔یہ امر ناپسند ہے۔کئی ایک لوگ صحابہ ، بعد آپ کے مرتد ہوئے جن سے حضرت ابوبکر نے حسب وعدہ قرآن کریم جنگ کی۔بے ریب وہ حوض کوثر کیا ایمان سے بھی ہٹائے گئے اوراسی طرح آخر میں بھی ہٹائے جاویں گے۔انہوں نے خلافت کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ہاں یہ مسئلہ آپ کا بڑا سچا اور ضروری اور قابل قدر ہے کہ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ کے بعد کوئی شخص نیا طریقہ اور نئی شریعت قائم کرے تو وہ مردود ہے اور کذاب اور مفتری ہے۔ہرگز اس قابل نہیں کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں۔وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ہجرت کے وقت مولیٰ علی مرتضیٰ کو اپنے بسترہ پر سلایایا نہیں سلایا۔اس کا ذکر صحیح احادیث میں تو نہیںالبتہ تواریخ میں ہے۔سو یہ مولیٰ علی مرتضیٰ کی بڑائی ہے اگر آپ نے سلایا یا آپ سوئے۔صحابہ کرام ایسی جانبازیاں بہت کرتے تھے اور مولیٰ مرتضیٰ تو خاص آپ کے پیارے بھائی اور داماد تھے کیوںنہ کرتے۔حضرت عمرؓ تو مدینہ منورہ میں حسب الارشاد پہلے ہجرت کر کے چلے گئے تھے اور حضرت عثمان ؓ حسب الحکم حبشہ کو ہجرت کر کے گئے ہوئے تھے۔اگر تقیہ کا حکم ہوتا تو تمام انبیاء و رسول کیوں دکھوں میں مبتلا ہوتے۔حضرت سبط اصغر مظلوم شہید کربلا کیوں کربلا میں مبتلا ہوتے۔یہ روافض کی کمزوری کا عقیدہ ہے۔