ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 36

اطمینا ن حاصل ہو گیا ہے اور میرے دل میں شاعری سے اس قدر نفرت پیدا ہو گئی ہے کہ شاعر بننے اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لینے کو برابر سمجھتا ہوں۔لہٰذا بذریعہ عریضہ ہٰذا حضور کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ آئندہ کے لئے میں شاعری سے بالکل بے تعلق ہوں۔اس عریضہ کے پیش کرنے کامدعا یہ ہے کہ آئندہ مجھ کو اپنا یہ عہد اور آپ کا گواہ بنانا یا دآ کر شاعری سے بچے رہنے کا موقع ملے۔حد ادب۔عریضہ نگار حضور کا ناچیز خادم اکبر شاہ خان نجیب آبادی ۸؍اکتوبر ۱۹۰۸ء خط کا جواب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔شاعری کا پیشہ منع ہے۔وَاِ لاَّ شعر تو خود ہمارے امام نے اس قدر کہے ہیں کہ دو تین دیوان بنتے ہیں عربی ، فارسی اور اردو۔اور حضرت حسانؓ کے لئے منبر مسجد میں رکھا گیا اور کعب کو اپنی چادر عطا فرمائی۔پس آپ کی اتنی نفرت حد سے متجاوز ہے۔ابن الاکوع نے شعر اور رجز کہے ا ور بڑا بہادر تھا۔نور الدین (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۵۷ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۸صفحہ۷) مفید معلومات ذیل کا خط جو حضرت امیر المومنین نے ایک شخص کے بعض سوالات کے جواب میں لکھا تھا۔فائدہ عام کے واسطے درج کیا جاتا ہے۔(ا یڈیٹر) ذرہ ذرہ باتوں میں ایمان کو مذبذب کرنا مناسب نہیں۔یہ کیا مسائل ہیں کہ جن پر آپ گھبراگئے۔کوئی ان میں توحید اسلام کا مسئلہ ہے۔توحید ، نبوت اور عدل کا ذکر ہے۔ا لحمد شریف نماز میں ضروری ہے اور میں خود الحمد پڑھتا ہوں اور سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ فرض و واجب یا ضروری نہیں۔ہاں بعد اَللّٰہ اَکْبَرقبل الحمد شریف حضرت نبی کریم ﷺکچھ دعائیں یا تسبیحیں پڑھ لیتے تھے۔ان میں بعض صحابہ نے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھا ہے۔سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ خود نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔رمضان شریف میں تہجد ، قیام رمضان کی تاکید ہے اور خود نبی کریم نے تین روز جماعت سے