ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 378
ے ہیں کہ اس کے مفاتح سے ایک جماعت تھک جاتی نہ یہ کہ مفاتح تھک جاتیں۔جیسا کہ ظاہری ترکیب سے معنے معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح ایک شعر ہے۔فَلَمَّا اَجَزْنَا سَاحَۃَ الْحَیِّ وَ انْتَحَی بِنَا بَطْنُ خَبْتٍ ذِیْ حِقَافٍ عَقَنْقَلِ وَ انْتَحٰی بِنَا کے معنے ہیں ایک طرف کر دیا ہم کو ریت کے ٹیلے نے۔حالانکہ ریت کے ٹیلہ نے برطرف نہیں کیا بلکہ و ہ لوگ ریت کے ٹیلہ سے الگ ہو گئے۔پس قرآن سے پہاڑ چلائے گئے اور زمین کاٹی گئی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ قرآن پہاڑوں میں چلایا جاوے۔یعنی پہاڑی لوگوں اور بڑے بڑے امراء تک پہنچ جاوے اور زمین کے دور دراز علاقوں میں پہنچ جائے اور روحانی مردے کلام کرنے لگیں بلکہ اللہ کی حکومت ہو جاوے (حصول سلطنت)۔لَوْ فعلَ ھٰذِہِ الْاُمُوْرُ بِقُرْآنِ لِفعل بِھٰذَا الْقُرْآنِ۔یعنی مندرجہ بالا امور اگر کسی قرآن سے ہوتے ہیں تو وہی یہی قرآن ہے۔چنانچہ قرآن تمام روئے زمین پر پھیل گیا۔روحانی مردے زندہ ہوئے۔عرب میں بلکہ دور دور تک اسلامی سلطنت ہو گئی۔تمام عرب مسلمان ہونے کی بشارت فرمایا۔(الرعد:۳۲) فرماکر ایک طرف مومنوں کو بشارت دی کہ تمام عرب مسلمان ہو جائے گا اور دوسری طرف (الرعد:۳۲)سے بتایا کہ کفار مصیبتوں میں گرفتار رہیںگے یہاں تک کہ تو اے نبی! ان کے گھروں کے قریب نازل ہو گا۔چنانچہ فتح مکہ کے دن ایسا ہی ہوا۔کسب حلال کی برکات فرمایا۔جھوٹ نہ بولو۔ناجائز کمائی چھوڑ دو۔برکت والی غذا حلال کی کمائی سے حاصل ہو گی۔اس کے کھانے سے برکت ملے گی۔خدا کی کتاب کا فہم آئے گا۔نیکیوں کی توفیق ملے گی۔حرام خوری سے نیکیوں کی توفیق چھینی جاتی ہے۔انبیاء کا مذہب اختیار کرو۔ (الشعراء:۸۰،۸۱) وہی کھلاتا ہے وہی پلاتا ہے۔جب اپنی غلطی سے مریض ہوں۔تو شفا بھی وہی دیتا ہے۔