ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 377
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی مجلس میں آیا۔اس وقت آپؐ فرما رہے تھے(اٰل عمران:۱۱۱)۔یہ سنتے ہی اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا اور کہا کہ سب ایمان لائو۔انہوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔پسندیدہ سے پسندیدہ باتوں کا حکم کرتا اوربدیوں سے روکتا ہے۔بس تمہیں اور کیا چاہیے۔بدقسمت اور شقی انسان کے لئے سارا قرآن مجید بھی موجب ضلالت ہو جاتا ہے۔تعجب آتا ہے کہ بعض لوگ مسلمان ، مومن احمدی کہلاتے ہیں۔پھر فریب ،دغا، چوری، جھوٹ، کینہ، بغض، بدظنی، ناجائز کمائی نہیں چھوڑتے۔اللہ ہدایت بخشے۔صادق کی نشانی فرمایا۔سچے کی نشانی یہ ہے کہ جو بات سچی اور بھلی ہو اس کے کرنے کے لئے تاکید کرے اور اللہ کی نصرت شامل حال ہو۔اور دشمنوں کی تباہی ہوتی جائے۔ذکر اللہ فرمایا۔مومن ذکر اللہ میں اطمینان پاتا ہے۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ، الحمد شریف، استغفار یہ سب ذکر اللہ ہے۔مجدّد کا کام فرمایا۔قرآن کا پڑھنا، پڑھانا، سمجھانا۔پھر قوم میں ایسی روح پیدا کر دینا کہ وہ عمل کرکے مزکیّ و مطہرّ بن جاوے۔یہ مجدد کا کام ہے۔توکل الی اللہ فرمایا۔(التوبۃ:۱۲۹)۔اگر مسلمان صرف اسی آیت کے ٹکڑے پر عمل شروع کر دیں تو سب بدیاں ان سے دور ہو جائیں۔جسے اپنے مولیٰ پر توکل ہو اسے کیا ضرورت ہے کہ فریب کرے، دغا دے، تکبر کرے، لڑائی کرے، دین میں سست ہو، چوری سے مال لے۔سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ سے مراد فرمایا۔ (الرعد:۳۲)کے معنے بالکل صاف ہیں۔جملہ شرط ہے۔اور لفعل بھٰذا القرآن جزا محذوف ہے۔اور کے معنے ہیں سیرت القرآن بالجبال۔جیسے مفاتحہ لتنوء بالعصبۃ کے معنے ہیں