ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 376

کہاں تک سنوارا کہ (القلم:۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔پھر انسان کے اندر جھوٹ، فریب، دغا، کینہ، بغض، طمع، سستی، تکبر بڑائی یہ سب بیماریاں ہیں۔ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔مردوں کی ذمہ داریاں عورتوں کے بارے میں مردوںکو فرمایا۔ (النساء: ۳۵)۔پس مردوں کا فرض ہے کہ ان کی تادیب و اصلاح کریں نیک معاشرت رکھیںرفق و مدارات سے پیش آئیں۔بچوں میں بدعادتیں نہ پڑنے دیں۔اگر ہوں تو دور کرنے کی سعی کریں۔محلہ میں شہر میں جو بدعادات اور رسومات رواج پذیر ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور ان سب کے لئے عمدہ عمدہ تدابیر سوچتے رہیں۔ہر مومن اپنے نفس سے سوال کرے کہ اس نے کسی بدی کا اپنے نفس یا اپنے گھر میں یا اپنے محلہ یا اپنے شہر یا اپنے ملک سے قلع و قمع کیا ہے؟ بدیاں انسان زیادہ تر حصول رزق کے لئے کرتا ہے۔فرمایا بسط رزق تو اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔زرّیں نصائح فرمایا۔میں جوان سے بوڑھا ہوا۔سرد و گرم زمانے کا دیکھا کبھی نیکی کا نتیجہ برا نہیں دیکھا۔بلکہ خدا تعالیٰ تو نیک کی اولاد کو بھی ضائع نہیں کرتا۔تم جھوٹ نہ بولو۔بدظنیاں چھوڑ دو۔بری صحبتوں سے کنارہ کش ہو جائو۔ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت خدا کی شکریہ کے ساتھ قبول کرو۔بدیوں سے بچتے رہو۔نیکیوں پر دوام کرو۔نمازیں سنوار کر پڑھو۔ہم توچند روز کے مہمان ہیں۔روز بروز مرنے کی تیاری ہے۔ممکن ہے اگر تم کوشش کرو تو خدا کے فضل سے ہماری روح تمہاری طرف سے خوش جائے۔حوالۂ بخدا۔۸؍جون ۱۹۱۱ء (جمعرات) خوش قسمت اور بد قسمت انسان فرمایا۔خوش قسمت اور سعید انسان کے واسطے تو ایک کلمہ حکمت ہی موجب ہدایت ہو جاتا ہے۔ایک قوم کی طرف سے ایک شخص دریافت حال و تحقیق کے لئے