ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 374

اسی بنا پر میں نے اپنی بعض ان تقریروں میں جو مخالفین اسلام سے بطریق تبادلہ خیالات ہوئیں۔اس امر کو بڑے زور سے پیش کیا ہے اور اس کو ایک عظیم الشان حربہ فتح اسلام کا سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل زندگی اور پاکیزہ فطرت کے ثبوت میں آپؐ کی دعائیں نہایت قیمتی ماخذ ہیں۔دعاؤں کا تعلق انسان کے قلب سے ہے اور اس کے مخفی در مخفی ارادوں اور جذبات کی وہ کلید ہیں۔پس اگر ہمارے دوست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں پر غور کریں تو انہیںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص محبت اورانس پیدا ہوجائے گا اور آپؐ کی شان بلند اور بھی بڑھی ہوئی نظر آئے گی۔غرض کسی شخص کی دعائیں اس کی زندگی کے حالات اور سیرت کا راز سربستہ ہیں۔اسی خیال سے میں نے یہ سوال کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود سے آپ نے کیا دعا کرائی؟ اور آپ کیا دعا کرتے رہے ہیں۔وہ خط جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ نے لکھا یہ ہے:۔حضرت امیرالمومنین کا مکتوب مولانا، مرشدنا، امامنا السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ عالی جناب! میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے وہ مطالب حاصل کروں! اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفا دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد میںکمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجاوے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمایئے کہ میں یہ ادنیٰ خدمت بجالاؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کردوں۔حضرت پیرو مرشد نابکار شرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ