ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 373

میں انبیاء مبعوث ہوں گے اور پھر دیکھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ خدا کو معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر پاکر کیسے اعمال کرتے کیوں کہ خدا تعالیٰ اپنے اس علم ازلی کی بناء پر سزا نہیں دیتا۔(البدر جلد۱۰ نمبر۲۹ مؤرخہ ۱۸؍ مئی ۱۹۱۱ء صفحہ ۱) توکل علی اللہ آپ کے توکل علی اللہ کے بہت سے واقعات لکھے ہیں۔مگر جس قدر بھی ملتے جاویں وہ ایما ن ہی بڑھانے والے ہیں۔ایک دوست مالی ابتلا میں تھا اس کے متعلق میں نے آپ کو توجہ دلائی۔فرمایا۔میں تو روپیہ رکھتا ہی نہیں اور مجھے رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔میرا مولیٰ میری ضرورتوں کا آپ کفیل ہے۔مجھے ضرورت پیچھے پیدا ہوتی ہے پہلے وہ روپیہ بھیج دیتا ہے کسی اور کو کہنے کی مجھے ضرورت ہی نہیں۔نہیں تو مولیٰ کریم ہی پُرچَک کردیتا ہوں اور کسی کو میں نہیں کہتا۔ہاں دعا کرسکتا ہوں۔آپ کی زندگی کے چند عجائبات میری عادت میں داخل ہے کہ میں جب کوئی موقعہ پاتا ہوں تو بعض باتیں ایسی پوچھ لیتا ہوں جو دوسروں کے نزدیک شاید خلاف ادب ہوں مگر میں اپنے مذاق پر پوچھ ہی لیتا ہوں۔ایک دن مجھے موقعہ ملا اور میں نے چند سوال کیے۔ایڈیٹر الحکم۔’’کیا حضور نے کبھی حضرت صاحب سے کوئی دعا کرائی ہے یا دعا کے لیے کہا؟‘‘ حضرت امیرالمومنین۔فرمایا۔میں نے کبھی بھی حضرت کی خدمت میں دعا کے لیے عرض نہیں کیا۔صرف ایک مرتبہ میں نے ایک خط حضرت کو لکھا تھا اس میں میری ایک درخواست دعا کی ہے وہ دیکھ لو معلوم ہوجائے گا۔ناظرین! میں اس معمے کو حل کرنے کے لیے اس دعاکو یہاں ضروری لکھنا چاہتا ہوں۔اس کو پڑھ کر آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت امیرالمومنین کی غرض و غایت اور محبوب ترین شے دنیا میں کیا ہے؟ کسی انسان کی زندگی کے حالات کاپتہ لگانے کے لیے اس کی دعائیں نہایت عمدہ ذریعہ ہیں اور