ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 369
ایک مندر میں لے گئے۔وہاں دو بڑے بڑے بت تھے۔ان کے منہ جنوب کو ہیں میرا منہ شمال کی طرف ہے۔مجھے ان کو سجدہ کرنے کو کہا۔مگر مجھے یاد آگیا کہ اسلام اور بت کو سجدہ۔میں نے بڑے زور سے استغفار شروع کیا۔جب تیسری مرتبہ پڑھا تو وہ بت دھڑم سے گر گیا۔پھر دوسرے کی طرف توجہ کی تو وہ استغفار سے نہیں گرا۔میں نے سمجھا کہ یہ انسانی فعل ہے اس کے لئے زبردست ہتھیار چاہیے اور وہ لاحول ہے۔تیسری مرتبہ جب لاحول پڑھا تووہ بھی گر گیا اور بائیں طرف سے شیطان آیا۔اس کے ہاتھ میں لوہے کا بڑا چمٹاتھا۔دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میرے سر پر مارنا چاہا تو میں نے لاحول پڑھا اور وہ بھی بھاگ گیا۔تو میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ شیطانی وساوس کے لئے لاحول زبردست ہتھیار ہے۔محمد رسول اللہ ﷺکی اتباع بڑی بہادری ہے باقی سب نفس کے دھوکے ہیں۔میں چاہوں تو اس مضمون پر کئی گھنٹے لیکچر دوں اور مشاہدات سنا ؤں۔یہ سب کچھ اس کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے۔زیادہ لاحول پڑھو۔شریعت کی پابندی کرو۔محمد رسول اللہ نے بڑی تلوار ماری ہے۔میں بڑے نبیوں کے علم جانتا ہوں۔بائبل تو نوک زبان ہورہی ہے۔ویدوں کو بھی بڑے عالموں سے سنا ہے۔اور ژندوستا، گاتھ ، دساتیر ہمارے گھر میں ہیںان کو پڑھا ہے اور خوب پڑھا ہے جو کچھ بھی ہے وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع میں ہے باقی سب اوٹ پٹانگ ہے اسے حوالہ بخدا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی دستگیریاں کی ہیں میرے لئے تو آنحضرت ﷺ کی باتیں ہی دلربا ہیں۔اور کسی کی عظمت ہی نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں سمجھ میں نہیں آتی۔(الحکم جلد ۱۵نمبر ۱۳ و ۱۴ مورخہ ۲۸؍اپریل و ۷؍مئی ۱۹۱۱ء صفحہ ۳ تا ۵) احباب کی خبر گیری (۳؍ مئی ۱۹۱۱ء) شیخ عبد الرحمن نو مسلم سابق کتھا سنگھ بیمار تھا۔شیخ غلام احمد صاحب واعظ کو فرمایا کہ جاؤ اور عبد الرحمن کی خبر لاؤ۔سنا گیا ہے کہ وہ بیمار ہو گیا ہے۔۶؍ مئی ۱۹۱۱ء کی شام کو بعد نماز مغرب بندہ پھر حاضر ہوا ایک کو فرمایا کہ عبد الرحمن کاغانی کو کہو کہ غلام دین ایک شخص ہے اس کا لڑکا بیمار ہو گیا۔مہربانی کر کے اس کو دیکھو اس کو تپ ہے۔