ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 362 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 362

میں آپ کو اس کے متعلق اپنی تحقیقات ابھی بتاؤں گا جس پر خدا کے فضل سے میں ایمان رکھتا ہوں۔مگر میرا کام چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اس لئے میںنے اس درد دل کا اظہار آپ سے کیا ہے جو مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر دل میں پیدا ہوتا ہے اور آپ کو اس واسطے سنادیا ہے کہ شاید کسی کو نفع پہنچے۔تین بزرگوں کا زندہ سمجھاجانا اور دیگر لغو بحثیں صرف خضر ہی کی بحث نہیں بلکہ ہمارے ہاں تو تین بزرگ ایسے ہیں۔ایک خضردریاؤں کے اور الیاس جنگلوں کے اور جھنڈا پاتنی مشہور ہے۔اور ان تینوں کو زندہ سمجھا جاتا ہے۔جن بحثوں کا میں نے ابھی ذکرکیا ہے اسی سلسلہ میں اصحاب کہف کے کتے کی بھی ایک بحث ہے کہ وہ نر تھایا مادہ اس کا رنگ کیا تھا۔اور ایسا ہی بنی اسرائیل کی گائے کی بحث ہے۔غرض اس قسم کی بحثیں قوم کی پست ہمتی اور حقائق سے دوری کا ثبوت ہیں۔قوم کے ادبار کے وقت ایسی ہی حالت ہوتی ہے ہر کام میں سست بات کریں گے۔دولت ہوگی تو شراب خواری اور عیاشی کریں گے۔حکومت ملے گی تو ظلم اور سختی کے علاوہ رشوت لیں گے اور اتلاف حقوق کریں گے۔یہ امراض ہیں جو قوم میں اس وقت بھی پیدا ہورہی ہیں۔اب میں آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔لفظ خضر اور قرآن و احادیث خضر لفظ قرآن مجید میں نہیں ہے اور نہ یہ نام آیا ہے۔نہ احادیث صحیحہ میں ذکر ہے۔ہاں بطورکہانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ خضر کا نام لے لیتے ہیں۔اب خضر کی وسعت دیکھوکہ فضل شاہ ہیر والا بھی کہتا ہے کہ خضر نے میرے منہ میں اپنا لب ڈالا ہے۔نور احمد کاتب کے خط کا نام خضری خط ہے۔خضر کیا چیز ہے؟ اولیاء کرام کی کتابوں میں خضر کی ملاقات کا ذکر آیا ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ خضر کیا چیزہے؟ بعض کہتے ہیں کہ ایک نبی کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ایک ولی کا نام ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ جس کے ذریعہ ہدایت ملی وہ خضر ہے۔چنانچہ ایک شعر آپ نے بھی سنا ہوگا کہ