ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 361

ایوان خلافت ایام علالت میں آپ تبلیغ حق کے لئے بہت حریص رہے اور تمام ایسے اوقات میں جبکہ آپ کی حالت نازک سمجھی جاتی رہی آپ نے بارہا فرمایا کہ مجھے اپنے مولیٰ پر بڑی امیدیں ہیں۔خضر کی تحقیقات ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء کو جس دن کہ میں قادیان سے باہر جاتا ہوں بٹالہ کے ایک منصف صاحب اور ایک مختار عدالت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔مختار صاحب نے آپ سے دریافت کیا کہ خضر کیا ہے؟ فرمایا۔جب کوئی قوم حق سے دور جا پڑتی ہے اور اس طرح پر وہ گرجاتی ہے تو اس کے عقائد میں فرق آتا ہے۔پھر اس کا اثر اعمال پر پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ حوصلے پست اور ہمتیں کمزور ہوجاتی ہیں وہ روحانی ترقیوں سے ہی نہیں رکتی بلکہ دنیوی رنگ میں بھی پستی کی طرف چلی جاتی ہے۔چونکہ میں اس بات پر سچے دل سے یقین رکھتا ہوں اور یہ میرا ہی نہیں تمام راستبازوں کا تجربہ ہے کہ تمام ترقیوں کی جڑ سچے عقائد اور اعمال صالحہ ہیں۔اس حالت تنزل میں اس کی علمی اور عملی کمزوریاں عجیب عجیب ایجادیں کرتی ہیں۔آج کل مسلمانوں کی حالت بہت گر گئی ہے۔اس لئے کہ ان میں خدا تعالیٰ کی کتاب کی عظمت اور اس پر عمل کرنے کا جوش نہیں رہا۔اور وہ خدا کی کتاب کو ترک کر کے خود ہر طرف سے گررہی ہے۔اس واسطے اس پستی کے دور میں ایسی تحقیقات کی طرف متوجہ ہو چلی ہے جو اس کے اعمال پر مؤثر نہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ آدم کو پیدا ہوئے کتنا عرصہ گزرا۔اس کے ہاں دن کے پہلے حصہ میں لڑکی اور دوسرے میں لڑکا پیدا ہوتاتھا تو ان کے نکاح کیونکر ہوتے تھے۔لیکن اگر غور کیا جاوے اور آپ بھی فکر کریں کہ کیا ان تحقیقاتوں سے کوئی روحانی ترقی یا اصلاح نفس وابستہ ہے یایہ کوئی علمی ترقی کا ذریعہ ہے۔عملی رنگ میں اگر دیکھیں تو شریعت ہی اور ہورہی ہے ایسے وظائف اور اوراد لوگوں نے تجویز کرلئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کتاب ہی چھوٹ گئی ہے۔اس قسم کی بحثوں اور تحقیقاتوں میں سے خضر کی بحث ہے۔