ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 353 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 353

بنائی بلکہ ان کا یہی مسلک رہا کہ بزہد و ورع کوش و صدق و صفا ولیکن میفزائے بر مصطفیٰ اگر عید میلاد جائز ہوتی تو حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بڑے محب تھے وہ مناتے۔ایسی عید نکالنا جہالت کی بات ہے اور نکالنے والے صرف عوام کو خوش کرنا چاہتے ہیں ورنہ ان میں کوئی دینی جوش نہیں۔شیعہ سنی کا جھگڑا کیوں کر طے ہوا ہمارے محب مرزا کبیر الدین صاحب ریلوے گارڈ جو آج کل لکھنؤ میں رہتے ہیں بمعیت برادر مرزاحسام الدین صاحب حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور میں حاضر تھے۔ان کے ساتھ لکھنؤ کے متعلق کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔فرمایا۔جب میں لکھنؤ میں پڑھتا تھا تو میرے استاد حکیم صاحب کے پاس مرزا رجب علی بیگ صاحب فسانہ عجائب کے مصنف بھی آیا کرتے تھے۔ایک دن میں نے مرزا صاحب کو کہا کہ آپ تو اب بوڑھے ہو گئے ہیں آیئے اپنا فسانہ عجائب ہی مجھے پڑھا دیجئے۔اس کو انہوں نے منظور فرمایا۔ہنوز دو ہی صفحے پڑھے تھے کہ اس میں ایک ایسی عبارت آئی جس سے میں تاڑ گیا کہ مرزا رجب علی بیگ صاحب شیعہ نہیں ہیں بلکہ سنی ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ آپ تو سنی ہیں۔حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ کس طرح؟ میں نے کہا دیکھئے آپ نے اپنی کتاب میں جہاں سنی علماء کا ذکر کیا ہے ان کے لئے لفظ ’’اِدھر‘‘ کا استعمال کیا ہے اور جہاں شیعہ علماء کا ذکر کیا ہے ان کے لئے لفظ ’’اُدھر‘‘ کا استعمال کیا ہے۔اس اِدھر اور اُدھر سے ظاہر ہو گیا ہے کہ آپ سنی ہیں شیعہ نہیں ہیں۔حیران ہو کر کہنے لگے اچھا جانے دو اس بات کو۔پھر ایک دن میں نے پوچھا کہ آپ فرمایئے کہ آپ نے کس طرح سے فیصلہ کیا تو فرمایا۔یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔میں لکھنؤ میں نواب سعادت علی خان صاحب کے ہاں ملازم تھا۔ایک دفعہ کسی ضرورت کے سبب دہلی جانا ہوا تو نواب صاحب نے فرمایا کہ دہلی جاتے ہو۔شاہ عبدالعزیز