ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 352

ہمارے گھر میں چیزیں کیسی راستہ میں بکھری پڑی ہوتی تھیں۔اب پہلے سے کچھ راستہ صاف رہتا ہے۔‘‘ آپ کے ایسا فرمانے پر چند چیزیں جو راہ میں پڑی تھیں ان کو میں نے اٹھا کر ایک طرف کر دیا۔پھر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔’’مولوی صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح سے مراد ہے) سے خدا بہت خوش ہے۔پانچوں وقت ننگے پاؤں وضو کیا۔پاؤں دھوئے، نمازیں پڑھیں اور دنیا میں آکر بہت محنت کی ہے۔کبھی تکلف نہیں کیا جیسا جہاں کھانا مل گیا کھا کر بے تکلف بیٹھ کر پھر کام میں لگ گئے یا گھر سے باہر چلے گئے اس لئے خدا ان سے بہت خوش ہے۔‘‘ پھر فرمایا۔’’خدا تم سے (مراد حاضرین خلیفہ رشید الدین و ان کی زوجہ) بھی خوش ہے لیکن اتنا نہیں جتنا مولوی صاحب سے۔کوشش کرو اور راستہ میں کوئی چیز ہو تو اس کو اٹھا کر راستہ صاف کر دو۔‘‘ فقط حضرت خلیفۃ المسیحؑ نے فرمایا کہ یہ ایک بے نظیر خواب ہے۔اس میں راستہ تو وہی صراط مستقیم ہے اس کو صاف کرنا چاہئے اپنی کمزوریوں اور غفلتوں کو دور کرنا چاہئے۔فرمایا۔اس خواب سے اہل تشیع کا بھی ردّ ہوتا ہے کیونکہ وہ پاؤں نہیں دھوتے اور اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ پاؤں دھونے سے خوش ہوتا ہے۔عید میلاد بدعت ہے جماعت شملہ کا خط پیش ہوا کہ پیسہ اخبار میں یہ خبر پڑھ کر کہ عید میلاد کے دن لاہور میں احمدیہ جماعت کے ایک جلسہ میں خواجہ صاحب لیکچر دیں گے ہم نے بھی عید میلاد کا جلسہ منعقد کیا۔اس کے متعلق حضور کا کیا حکم ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح ؑ نے فرمایا۔عید میلاد بدعت ہے۔عیدین دو ہی ہیں۔اس طرح تو لوگ نئی نئی عیدیں بناتے جائیں گے اور احمدی کہیں گے کہ مرزا صاحب پر الہام اوّل کے دن ایک عید ہو اور یوم وصال پر عید ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سب سے بڑے محب تو صحابہ تھے انہوں نے کوئی تیسری عید نہیں