ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 349 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 349

کہ عیسائیوں کے خلاف ایک کتاب لکھوں جس پر فصل الخطاب لکھی گئی۔صدقہ جاریہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۱۱ء کا واقعہ ہے کہ مجھے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔آپ نے ایک سلسلہ کلام میں فرمایا کہ صدقہ چار ہیں۔اوّل اولاد صالح جو دعا کرے۔دوم علم جو نفع رساں ہو۔سوم پانی کا اجرا۔یعنی کنوئیں وغیرہ کی تعمیر۔یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے۔چہارم عمدہ پل یا سٹرک۔جب لوگ گزرتے ہیں تو آرام پا کر جوش سے بنانے والے کے لئے دعا کرتے ہیں۔امتحان کے لئے دعا کرنے والے غور کریں حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور علی العموم ہمارے وہ نوجوان جو عنقریب امتحانوں میں شامل ہونے والے ہیں دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں اور بڑے بڑے الحاح سے لکھتے ہیں۔ایک نوجوان نے خط لکھا جو سال گزشتہ ایک امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔اس کا باپ اتفاق سے موجود تھا۔فرمایا۔تمہارے لڑکے نے بڑے درد سے خط لکھا ہے اور بڑا اضطراب ظاہر کیا ہے تم اس کو ہماری طرف سے نصیحت کرو کہ اس قدر گھبراہٹ کیوں ہے؟ امتحان کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ اس کے پاس ہونے پر ساری امیدوں کا انحصار کرنا شرک ہے۔کوشش جدا امر ہے مگر اس قدر اسباب پرستی جائز نہیں۔اگر پاس بھی ہو جاوے پھر اس کے فوائد سے متمتع کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل پر ہے۔اس لئے ایسی باتیں جو شرک کے درجہ تک پہنچ جاویںچھوڑ دینی چاہئیں۔خدا پر بھروسہ کرو وہی فضل کرے تو کچھ بنتاہے۔بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے کوئی امتحان پاس نہیںکیا مگر وہ بڑے آسودہ ہیں۔اور بعض ہیں جو امتحان پاس کر کے بھی مارے مارے پھرتے ہیں۔یہاں نثار احمد ایک لڑکا تھا۔اس کے پاس کی خبر اور موت کا پیغام ایک ہی وقت میں آیا۔تو کیا فائدہ اس کے پاس ہونے نے دیا۔پس ایسی باتوں سے توبہ کر لو اور استغفار کرو۔میں سمجھتا ہوں یہ نصیحت تمام نوجوانوں کے لئے مفید ہو گی۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۵نمبر۱۲ مؤرخہ ۲۸ ؍مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ ۳)