ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 34
یورپین تو نہ تھا بلکہ وہ تو ایشیائی تھا۔لاجواب ہو کر ہنس کے ٹال دیا (الکہف : ۵،۶)۔الحمد کثرت سے پڑھنی چاہیے اس سے مذاہب باطلہ کا ابطال ہوتا ہے۔چوتھا وظیفہ درود شریف ہے۔دیکھو نبی کریم نے ہمارے لئے کیسی مشکلات اٹھائیں ان کے کس قدر احسانات ہیں (الرحمٰن : ۶۱)ان کے احسانوں کو یاد کر کے درود شریف پڑھا کرو۔درود درد سے نکلا ہے۔وظائف کے لئے وقت کا تعین بدعت ہے ان وظائف کے لئے وقت کا معین کرنا میرے نزدیک بدعت ہے جب موقع ملے پڑھے۔ایک دفعہ مجھے بھانڈوں کا تماشہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔میں نے دیکھا کہ بیٹا باپ کو جوتے مارتا ہے۔میں نے اسی وقت نبی کریم پر درود پڑھنا شروع کردیا کہ اگر آپ کی تعلیم پاک کا اثر ہم پر نہ ہوتا تو ہماری بھی ایسی کیفیت ہوتی۔مسلمان کبھی شرمندہ نہیں ہوتا میں نے عیسائیوں وغیرہ سے مباحثات کئے ہیں کفارہ کے مسئلہ میں ان کا دل ملامت کرتا ہے۔خدا کا فضل ہے مسلمان کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ایک پادری گارڈن نام میرے مکان پر آیا کرتا تھا ایک دن انجیل کی تعلیم کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔میں نے کہا تمہارا مذہب ایسا نہیں ہے کہ بلند میناروں پر چڑھ کر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر کہے جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں۔تمہارے ہاں تو صرف گھنٹہ بجتا ہے۔کیا تم بآواز بلند کہہ سکتے ہو کہ خدا تین ہیں اور تین ایک ہوتا ہے اور خدا پھانسی پر لٹکایاگیا؟ یا اور کوئی مذہب اپنے اصولوں کو بآواز بلند دنیا کو سنا سکتا ہے؟ کیا آریہ کہہ سکتے ہیں نیوگ بڑی عمدہ چیز ہے؟ ایک راجہ نے مجھے کہا مولوی صاحب مذہب کا بڑا جھگڑا ہے۔میں نے کہا کہ حضور بڑے بڑے مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں مذہب کا بھی فیصلہ کرلیں۔اس نے کہا کہ مولوی صاحب مذہب وہ سچا جو پرانا ہو مذہب اسلام تو تیرہ سو ۱۳۰۰برس سے ہے۔میں نے کہا ہمارے نبی کا حکم ہے کہ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ۔میں نے کہا رام چندر جی کس کی پوجا کرتے تھے؟ اس نے کہا ردّر کی۔میں کہا ردّر کس کی پوجا کرتے تھے؟ اس نے کہا کہ برہما کی۔میں نے کہا کہ برہما کس کی پوجا