ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 33
کچھ عرصہ کے بعد میرے دل نے فتویٰ دیا کہ بیعت کر لو۔جب میں شاہ صاحب کے مکان پر گیا تو میں نے کہا کہ اگر میں نے آپ کی بیعت کر لی تو مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا۔شنید بہ دید مبدل شود وسمعی کشفی گردد۔اور آپ نے فرمایا کہ بیعت کے وقت کوئی شرط بھی کرنی جائز ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں اَسْئَلُکَ مَرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔فَأََعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ (صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب فضل السجود و الحث علیہ)بھی آیا ہے اور آپ نے فرمایا کہ اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں تو چھ مہینہ رہنا ہوگا اگر فروعات سیکھنے ہوں تو ایک سال۔آخر میں رہا۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر بڑے انعامات کئے۔چار مجرب وظائف میں نے چار وظیفے تجربہ کئے ہیں۔استغفار جس کے معنے ہیں پچھلی غلطیوں کے بد نتائج سے اور آئندہ غلطیوں سے لاحول (خدا کی پناہ میں آنا)۔الحمد شریف پڑھنا۔رَبُّ الْعَالَمِیْنَ بتدریج ترقی دینے والا، رحمان کہتے ہیں بلا مبادلہ فضلکرنے والے کو۔رحیم بالمبادلہ رحم کرنے والے کو ،جزا سزا بھی بعض وقت دیتا ہے مگر ( المائدۃ : ۱۶) بھی آیا۔تم ڈاکٹری میں پڑھتے ہو دیکھو سفلس گنور یا اکثر بدکاری سے ہوجاتا ہے۔فرمانبرداری بڑی عمدہ چیز ہے یہی راہ انبیاء، شہداء، صالحین کی ہے۔علم پڑھ کر عمل نہ کرنے اور بے وجہ حسد، بغض رکھنے سے انسان مغضوب ہوجاتا ہے۔جیسے یہود۔ضالین، بے جا محبت سے انسان ضالین میں سے ہو جاتا ہے۔جیسا کہ ایک بزرگ نے لکھا دَعْ مَااِدَّعَتْ نَصَارٰی نَبِیَّہُمْ ضالین سے مراد عیسائی ہیں انہوں نے بے جا محبت سے مسیح علیہ السلام کو خدا بنادیا اور تراجم کرنے والوں کے خیالات کو کلام خدا۔اس لئے سچے علوم ان کے پاس نہیں رہے ( الکہف: ۱۰۵)۔ایک عیسائی مسلمان کے کالج میں مدتوں تک رہا۔ایک شخص نے اس سے دریافت کیا کہ آپ تو بڑے عالم ہیں بھلا یہ بتائیں کہ تین خدا ایک کیسے ہوسکتے ہیں اور ایک تین کیسے؟ اس نے کہا کہ ایشیائی دماغ تثلیث کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔اس نے کہا مسیح