ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 339
ہمارے اپنے سلسلہ کے ضروریات بہت ہیں اور ہماری قوم پربہت بوجھ چندوں کا ہے تاہم چونکہ یونیورسٹی کی تحریک ایک مفید اور نیک تحریک ہے اس لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے احباب بھی اس میں شامل ہوں اور قلمے قدمے سخنے درمے مدد دیں۔نورالدین (الحکم جلد ۱۵ نمبر ۹ مورخہ ۷؍مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۳) حلال و حرام اور طیّب ایک صاحب نے دریافت کیا کہ طوطا حلال ہے یا حرام؟ فرمایا۔قرآن میں آیا ہے۔(النحل: ۱۱۷) یہ خدا پر افترا باندھنا ہے کہ یہ حلال ہے یا حرام۔خدا نے تو فرمایا ہے الخ (البقرۃ: ۱۷۴) حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو جانور شکاری ہیں وہ حرام ہیں اس میں درندے، شکاری پرند وغیرہ سب داخل ہیں۔اب اس سے زیادہ کوئی مجاز نہیں کہ کسی کو حلال اور حرام کہے۔مگر دنیا میں چونکہ ہزار ہا جانور ہیں پھر دقت یہ ہوئی کہ اب کسے کھاویں اور کسے نہ کھاویں۔اس مشکل کو اللہ تعالیٰ نے نہایت آسانی سے حل کر دیا ہے۔فرمایا (النحل: ۱۱۵) یعنی حلال طیب کھاؤ۔اب گویا یہ بتلا دیاکہ جو چیز طیب ہو وہ کھاؤ۔چنانچہ ہر جگہ ہر قوم میں جو چیزیں عمدہ اور پاک ہوں اور شرفا اور مہذب لوگ کھاتے ہوں وہ کھالو۔اس میں وہ استثناء جو پہلے بیان ہو چکے ان کا ملحوظ رکھنا نہایت ضرور ہے۔طوطا کھا لینے میں تو کوئی ہرج نہیں معلوم ہوتا مگر میں نہیں کھایا کرتا کیونکہ ہمارے ملک کے شرفا نہیں کھاتے۔ایک دفعہ ایک صاحب میرے سامنے گوہ (ضب) پکا کر لائے کہ کھایئے۔میں نے کہا کہ آپ بڑی خوشی سے میرے دستر خوان پر کھایئے مگر میں نہ کھاؤں گا کیونکہ شرفا اسے نہیں کھاتے۔