ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 337
کنبے کے باوجود اتنی فتوحات کے باوجود اس قدر شاگرد پیشہ کے۔بیبیوں کے واسطے قرآن میں حکم ہوتاہے۔۱؎(الاحزاب :۲۹)۔اگر تعظیم کا خیال ہو تو نظر کرو۔عباس آپ کے چچا فرماتے ہیں۔مَاکَانَ اَحَدٌاَحَبَّ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَکَانُوْا اِذَا رَئَ وْہُ لَمْ یُقِیْمُوْا۔۲؎ (الحکم جلد ۱۵ نمبر ۹ مورخہ۷؍مارچ ۱۹۱۱ء صفحہ۳ تا۶) کالمعلقہ کا نکاح ان ایام میں آپ (خلیفۃ المسیح )نے میری حاضری میں ضعیف اور ناقص الخلق بچوں کی پیدائش پر آریوں کے اعتراضات کے جواب کے سلسلہ میں بہت ہی عجیب تقریر فرمائی جو انشاء اللہ العزیز درج اخبار ہو گی۔ایسا ہی ان عورتوں کے متعلق جن کو لوگ کالمعلقہ رکھتے ہیں فرمایا کہ ’’ایسی عورتیں دوسرا نکاح کر سکتی ہیں۔‘‘ کیا ہم صلح کُل ہو سکتے ہیں؟ گزشتہ اتوار کو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور بعض دوسرے دوست لاہور سے آئے ہوئے تھے۔شاہ صاحب کے ایک سوال پر محمڈن یونیورسٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے اس مضمون پر چند اصولی باتیں بتائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم ان معنوں میں جو عام لوگ سمجھتے ہیں صلح کُل نہیں ہو سکتے اور دوسروں کے ساتھ مشترک امور میں مل کر کام تو کر سکتے مگر امتیاز ضروری ہے۔میں اس تقریر کے بعد پہنچا آپ نے از راہ کرم مجھے خطاب کر کے فرمایا کہ آپ نے بھی سن لیا۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے یونیورسٹی کے متعلق کوئی رائے دی ہے۔اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے وہ نوٹ مجھے سنایا جو درج ذیل ہے۔اس تقریر کو پڑھ کر معلوم ہو گا کہ آپ اپنی جماعت ۱؎ اے نبی کہہ دے اپنی بیبیوں کو اگر ہو تم چاہتی دنیا کا جینا اور یہاں کی رونق تو آؤ کچھ فائدہ دوں تم کو اور رخصت کردوں تم کو بھلی طرح سے۔۲؎ کوئی بھی صحابہ کرام کو محمدؐ رسول اللہ سے بڑھ کر پیارا نہ تھا اور صحابہ کا طرز یہ تھا کہ جب آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے۔