ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 331
ہوازن کی خطرناک لڑائی میں جو نو برس تک رہی آپ نے اپنے آپ کو چودہ پندرہ برس کی عمر میں بڑا ہی لائق اور قوم کا محافظ ثابت کیا(ا بنِ ہشام صفحہ۱۱۷)۔آپ کی لیاقت اور راستی اور سچی شرافت اور سادہ چال چلن کے باعث آپ کو قوم کی طرف سے امین کا خطاب ملا۔(طبری جلددوم صفحہ۳۸۰) پچیس برس کی عمر میں خدیجہ نام ایک قریشہ اور دولتمند بی بی کی جانب سے آپ تجارت کے طور پر شام کو تشریف لے گئے۔یہ سفر بھی چند روز اور تجارت میں گزرا۔یاد رہے کل دو ہی سفر حضور نے کئے ہیں۔سفر میں ایسی وفاداری اور لیاقت اور دیانت اور امانت کو عمل میں لائے کہ ان بی بی نے اس کے شکریہ میں آخر آپ کے ساتھ بڑی دھوم دھام سے شادی کی۔تمام نامی اورگرامی رؤساء حجاز طرفین سے اس شادی میں جمع ہوئے اور بڑے لطیف اور پُر زور فصاحت و بلاغت کے کئی خطبے پڑھے گئے۔یہ خطب ابن ہشام اور زرقانی اور ابن اثیر نے بیان کئے ہیں۔پھر آپ نے پچاس برس سے زیادہ عمر تک اسی ایک بی بی خدیجہ کے ساتھ زندگی بسر کی جس کے ساتھ آپ کا پچیس برس کی عمر میں نکاح ہوا اور وہ بی بی نکاح کے وقت چالیس برس کی تھیں اور اس خوبی سے اس تعلق کو پورا کیا کہ وہ بلا تامّل حضور کی دعوت اسلام پر پہلے ہی روز ایمان لائیں۔میں خدیجہ کی شہادت سے چشم پوشی نہیں کرسکتا جو انہوں نے آپ کے ابتدائی دعویٰ نبوت میں دی ہے۔حضور علیہ السلام نے جب ندائے الٰہی سنی اور دیکھا کہ تمام دنیا اس وعظ کی مخالفت کرے گی۔جب آپ نے فرمایا: خدیجہ مجھے اپنی جان پر خوف بن گیا تو وہ کہتی ہیں۔اَبْشِرْ فَوَاللّٰہِ لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدِقُ الْحَدِیْثَ وَ تَحْمِلُ الْکَلَّ وَ تَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔۱؎ (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ العلق) غور کرو پچپن سالہ بی بی آپ کی ہم شہر، ہم قوم جو پندرہ سال سے آپ کے بیاہ میں ہے کیا ۱؎ خوش ہو پس خدا کی قسم کبھی تجھے اللہ ذلیل نہ کرے گاتو بیشک صلہ رحمی کرتا اور سچ بولتا ہے اور دکھ والے کا دکھ برداشت کرتا اور مفلس کو دیتا اور مہمان نوازی کرتا اور بھلے کاموں میں وقتاً فوقتاً مدد دیتا ہے۔