ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 332 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 332

گواہی دیتی ہے۔خدیجہ کی گواہی ایسے وقت میں جبکہ آپ غمگین اور مضطرب تھے غور کے قابل ہے۔اگر آپ میں یہ صفات نہ ہوتے تو خدیجہ کا بیان اس وقت ہرگز تسلی کا موجب نہ ہوتا۔حضور کی قوم میں کوئی دینی کتاب، کوئی قانون نہ تھا، کوئی سلطنت نہ تھی۔حضور نے نبوت سے پہلے ایک عجیب تحریک کی جس کو دیکھ کر اور سن کر انسانیت والے انسان عش عش کرجاویں۔بنوہاشم اور بنو مطلب ، بنو اسد، بنو زہرہ، تَیم بن مرّہ کے درمیان ایک معاہدے کی تحریک فرمائی اور معاہدہ یہ تھا کہ کمزور اور مظلوم پر ظلم نہ ہو اور ان کی حفاظت کی جاوے۔(ابن اثیر جلد ۲صفحہ۲۹ ) کعبے کی مرمت میں کونے کے پتھر حجر اسود کے رکھنے پر تمام قبائل حجاز میں اس بات پر نفاق شروع ہوا کہ اس کونے کے پتھر کو کون شخص اٹھا کر رکھے۔قریب تھا تمام قوم کٹ کر ہلاک ہو۔اس حقیقی کونے کے پتھر نے جس کی پیشینگوئی کے لئے تصویری زبان میں دانیال ۲باب ۳۴ ، متی۲۱ باب ۴۲، یسعیاہ ۲۸باب ۱۶ میں مذکور ہے۔(وہ پتھر قدیم سے عرب کے مقام مکّہ معظمہ کے کونیمیںدھراتھا)اس کا ایسا فیصلہ کیا کہ قوم پر ثابت کردیا میرے ہاتھ کے چھونے سے تم کو آرام و نجات ہے۔مجمل قصہ یوں ہے جب قوموں میں اس پتھر کے رکھنے میں اختلاف ہوا کہ اس پتھر کو کون رکھے تو ان لوگوں نے یوں ٹھانی جو پہلے دروازے سے اندر آوے وہی اس کا رکھنے والا ٹھہرے۔اتنے میں حضور آنکلے۔آپ نے اپنی چادر بچھادی اور پتھر اس میں رکھ کرحکم دیا کہ تمام قومیں باتفاق اس چادر کو اٹھالیں۔اس سچے سبت اور سچے کونے کے پتھر نے اس آفت قتل و قتال سے قوم کو آرام بخشا۔یہ واقعہ آپ کی ۳۵سال کی عمر میں ہوا۔ایک نہایت عجیب واقعہ سنائے بغیر ابتدائے ایّام نبوت کے حال سے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔عثمان بن ہویرہ ایک عرب عیسائی ہوگیا۔اس دشمن قوم نے قسطنطنیہ کے دربار میں قیصر روم سے جاکر وعدہ کیا کہ حجاز کا ملک میں آپ کے قبضہ میں کرائے دیتا ہوں۔پھر اس شیطان نے یہاں مکّہ معظمہ میں اپنا منشا پورا کرنے کے لئے کارروائی شروع کی مگر اس دشمن ملک کا راز صرف