ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 330 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 330

میرے اس مضمون کو قرآن سے تصدیق کرنا ہو تو پڑھو ابتدائے نعمت پر قرآن فرماتا ہے۔۱؎(الفیل:۲،۳) اور آخری نعمت پوری کامیابی پر جو سچائی کا معیار ہے فرمایا۔۲؎ (المائدۃ:۴)۔اے قوم کے حامیو ! قوموں کے مصلحین کے قدر کرنے والو ! اے قوم کو عروج کی طرف بلانے والوں کے قدر دانو !اس منجّی قوم ، حامی قوم، فخر ملک کے خرق عادت پر قربان ہوجاؤ۔آؤ اسی کااتباع کریں، اسی کا طرز اختیار کریں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے یتیمی میں پرورش پائی۔ابتدائً عبدالمطلب کے پاس جو آپ کے دادا تھے۔پھر اپنے چچا ابوطالب کے گھر۔تمام مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ حضور کے اعلیٰ درجہ کے چال چلن سے چچا اور بھتیجے میں پرلے درجے کی محبت ہوگئی تھی اور آپ تمام شہر میں ہر دلعزیز بن گئے تھے۔ابوطالب سیریا کے سفر میں آپ کو علیحدہ نہ کرسکے بلکہ ساتھ ہی لے گئے حالانکہ آپ کا سن اس وقت نو برس کا تھا۔دیکھو یہ بات فراموشی کے قابل نہیں کیونکہ عیسائی کہتے ہیں آپ نے یہود سے تعلیم پائی۔کیا نو برس میں ایسی تعلیم اور یہود میں یا عیسائیوں میں اب تک الٰہی علم ہی کیسا ہے۔ایسا ہے کہ اب تک یہود نے مسیح کو بھی نہ جانا اور عیسائیوں نے کبھی اللہ کو اللہ مجسم یقین کیا۔کبھی مریم کی تصویر پر گوٹے کناری کے کپڑے چڑھائے۔یہی معلّم ہیں۔اس سفر میں بحیرہ نام راہب نے اپنی فراست سے ابوطالب کو کہا۔یہ لڑکا ایک نہایت ہی درجہ کا عظیم الشان ہونے والا ہے اور پرلے درجے کا روشن دماغ ہے، حسن اخلاق اور فیاضی میں بے نظیر ہونے کے علاوہ یہ بے ریب قوم کو نجات دینے والا ہوگا۔اس کی سخت حفاظت کیجیو۔(ابنِ ہشام صفحہ۱۱۴ ، ابنِ اثیر ۲۶،طبری صفحہ۲۴۵) ۱؎ تو نے دیکھا کیسا کیا تیرے ربّ نے ہاتھی والوں سے۔کیا نہ کردیا ان کا داؤ غلط۔۲ ؎ آج ناامید ہوئے کافر تمہارے دین سے سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا۔اور پورا کیا تم پر میں نے احسان۔