ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 32
مخالفت کے ساتھ اس کو کوئی ذاتی عداوت ہوتی ہے لیکن کوئی ایسا ہوتا ہے کہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے واسطے جنگ میں جاتا ہے۔غرض اَ لْاَعْمَالُ بِالنِّیِّاتِ ہے۔جناب امیران لوگوں کے دل کی حالت اور نیت کو ہمارے سامنے پیش کردیںپھر ہم اس پر فتویٰ لگا دیں گے۔یہی جواب اب بھی ہمارا ہے۔بے وضو اذان وقرآن ایک شخص کا خط حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں پیش ہوا کہ بے وضو قرآن شریف پڑھنا یا اذان دینا جائز ہے؟ فرمایا۔جائز ہے۔(البدر جلد ۷ نمبر ۳۷ مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۸) بیعت لینے سے قبل خطاب (مرتبہ جناب عربی صاحب) آج میں نے اور سید طفیل حسین وبابو غلام محمد اسسٹنٹ سرجن کلاس میڈیکل کالج لاہور نے حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی۔بیعت کے پہلے آپ نے یوں خطاب کیا کہ بیعت اور اس کے فوائد بیعت کے معنے ہیں غلام ہوجانے کے اور یورپ والے کہتے ہیں کہ غلامی بُری چیز ہے اور انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔میرے ایک پیر عبدالغنی صاحب مدینہ طیبہ میں رہتے ہیں۔دور دور کے لوگ آپ کے مرید ہوتے ہیں مصر کے، شام کے، مغرب کے، روس کے، میں بھی ان کے ہاں جایا کرتا تھا مگر میں خیال کرتا تھا کہ بیعت سے کیا فائدہ نیکی، بدی سب کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں اور میں فارغ التحصیل ہوچکا تھا۔اس لئے مبائعین کی کثرت دیکھ کر تعجب کیا کرتا تھا۔آخر ایک دفعہ میرے دل میں خیال آیا کہ چلو بیعت کر لو اگر فائدہ نہ دیکھا تو انکار کر دیں گے۔میںان کے مکان پر گیا مگر میری شرافت نے اجازت نہ دی کہ میں اقرار کرکے پھر جاؤں آخر میں یوں ہی واپس آگیا۔