ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 319

اور نقصان سے بچایا۔اور دوسری طرف فرمایا (الشمس:۱۶) اللہ تعالیٰ کا جب غضب بھڑکتا ہے اور اس کا عذاب شریروں پر آتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ ان کی اولاد کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔کے ایک یہ معنے بھی ہیں عقبیٰ میں اولاد کو داخل کیا ہے خدا کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔انسان اگر اپنی اولاد سے نیکی کرنا چاہے تو اس کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ خود صالح بنے، متقی ہو۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو اولاد کی بھی ضائع نہیں کرتا۔سابق بالخیرات حضرت خلیفۃ المسیح کی عام عادت ہے کہ کوئی نیک تحریک اور کوئی کرے آپ اس میں ضرور سب سے پہلے حصہ لیتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب ناظم مدرسہ احمدیہ کو خیال ہے کہ کوئی آدمی مصر بھیجا جاوے جو وہاں تعلیم حاصل کرے اور پھر وہ مدرسہ احمدیہ میں کام کرے۔ایسا ہی اس کے ذریعہ اور ضروری کام بھی لئے جاویں۔یہ تجویز حضرت کی خدمت میں پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ دو تین آدمی بھیجنے چاہئیں نصف خرچ ہم دیں گے۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۵نمبر۶ مؤرخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۳،۴) گناہوں سے کس طرح بچ سکتے ہیں فرمایا۔استغفار سے، اگر گناہ سے نہ بچ سکے تو لا حول بہت پڑھے جائے تھکے نہیں۔لَا مَلْجَائَ وَلَا مَنْجَائَ عَنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ۔خدا سے پناہ خدا ہی دیوے تو بات بنتی ہے۔طاعون کا کیڑا اتنا باریک ہوتا ہے پھر کس قدر بڑھتا ہے۔وہی بچائے تو بچائے۔استغفار اور لا حول سے بھی گناہوں سے نہ بچ سکے تو ہمت نہ ہارے۔استغفار اور لا حول اور دعا کہے جاوے۔استقامت کرے، گھبراوے نہیں۔شیخ محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک شخص پر مجھے بہت حسن ظن تھا۔لوگوں نے کہا شراب پیتا ہے۔میں نے نہ مانا، ایک دن وہ شراب پی رہا تھا کسی نے آ کر خبر کی۔میں نے کہا ہمیں دکھاؤ۔میں اس