ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 320 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 320

کے مکان پر گیا۔نوکر نے اندر خبر کی۔کہا کہ عرض کر دو کہ اس وقت میں مل نہیں سکتا۔میں نے کہا ہم نے ملنا ہے۔کہا کہہ دو کہ شراب پی رہا ہے۔میں نے کہا کچھ بھی ہو ہم نے ملنا ہے۔غرض اندر گیا تو دیکھا کہ جامِ شراب منہ سے لگا ہے مگر دیکھا کہ ہر گھونٹ کے بعد سچی توبہ دل سے نکلتی ہے اور اس توبہ کے ساتھ ایک نور اترتا معلوم ہوتا ہے۔غرض صاحبِ ہمت گھبراتا نہیں وہ توبہ کئے جاتا ہے کوشش کئے جاتا ہے۔لفظ عشق اور قرآن و حدیث عشق کا لفظ قرآن اور حدیث میں نہیں۔ایک حدیث صوفیوں نے لکھی ہے مگر وہ کسی صوفی کا اپنا لفظ ہے۔عشق کا لفظ اچھے معنی نہیں رکھتا۔غیر اللہ سے حبّ کو کہتے ہیں۔یہ کسی اعمال کی سزا ہوتی ہے۔شرک ہوتا ہے۔بھیرہ میں ایک لڑکا کسی عورت پر عاشق ہو گیا۔اخیر میں جنون ہو گیا۔لوگوں نے کہا کہ خدا کے لئے اس لڑکی کو اسے دکھا دو۔دیکھ کر کہنے لگا میں نہیں جانتا یہ کون چڑیل ہے۔لوگوں نے کہا یہ فلانی ہے۔کہنے لگا ہرگز نہیں۔اس کی ناک ایسی، آنکھ ایسی وغیرہ وغیرہ۔نہ مانا، خیر میں نے علاج کیا اچھا ہو گیا۔میں نے پوچھا تو نے اس وقت نہ پہچانا۔کہنے لگا خیال میں تصور باندھتے باندھتے کچھ اور کی اور ہی بن گئی تھی۔یہ کسی بد اعمالی کی شامت کا نتیجہ ہوتا ہے اور شرک ہوتا ہے۔انسان مختار ہے یا مجبور ہے اس بحث میں پڑنا احمق پن ہے۔قرآن اور حدیث میں یہ لفظ آیا ہی نہیں۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مؤرخہ ۱۶؍ فروری۱۹۱۱ء صفحہ ۲) دورانِ علالت ہونے والے افضال الٰہیہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا فضل ہے اس بیماری میں خدا تعالیٰ نے اپنی قدرتوں اور بندہ نوازیوں کے عجیب عجیب جلوے دکھائے ہیں۔میں اس بیماری میں دعاؤں کا بڑا قائل ہو گیا ہوں۔دعائیں مجھ پر بڑا بڑا فضل کرتی ہیں۔میرے خدا نے مجھ پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں میرا جی چاہتا ہے خدا تعالیٰ مجھ کو طاقت دے تو میں تم پر وہ انعامات بیان کروں جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر فرمائے ہیں۔آج بھی مجھ کو الہام ہوا ہے کہ ’’اَغْنِیْ بِفَضْلِکَ عَنْ مَنْ سِوَاکَ‘‘ نیند کے لئے ڈاکٹر مجھے دوائی پلاتے تھے کہ