ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 31
خوبیوں والا ہے اس کو پانے کے واسطے انسان کو چاہیے اپنے میں خوبیاں پیدا کرے۔پنجابی میں ایک مثل ہے جس کو حضرت امام مسیح موعود بھی فرمایا کرتے تھے۔بے مثل پاناچاہیں خود بے مثل ہو مومن کو خیال کرنا چاہیے کہ میرا مولا بدیوں سے پاک ہے وہ بدکا رکے ساتھ کس طرح تعلق رکھے گا۔ایمان کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان نیک عملوں کی طرف جھکتا ہے۔جب انسان خود نیک بنتا عمل صالح کرتا تو پھر دوسرے کو نیک بناتا حق سکھاتا اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔آجکل لوگوں میں صبر نہیں ایک گالی سن کر پچاس دیتے ہیں ایسا نہیں چاہیے۔غضب، شہوات اور حرص کے وقت صبر سے کام لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ تم سب کو ایمان عطا کرے عمل صالح کی توفیق دے، حق پر چلائے اور دوسروں کو حق دکھلانے والا اور صبر سکھانے والا بنائے۔(البدر جلد۷نمبر۳۷ مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) مقتولین جنگ کا معاملہ خدا پر چھوڑو ایک صاحب کا خط پیش ہوا کہ اس وقت جو مسلمان جنگ میں مرتے ہیں ان کا کیا حال ہے آیا وہ شہید ہیں یا حرام موت؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔جب حضرت امیر تیمور حلب میں گئے تھے تو آپ نے علماء سے سوال کیا کہ حضرت علی و معاویہ کے مابین جو جنگ ہوئی تھی اس میں طرفین کے مقتولین کے متعلق کیا فتویٰ ہے۔علماء خوف زدہ تھے خاموش رہے کسی کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی۔آخر ایک محدث آیا اور اس نے کہا کہ مجھے امیرصاحب کے پیش کرو میں ان کے سوال کا جواب دوں گا۔چنانچہ وہ پیش ہوئے اور انہوں نے امیرصاحب کی خدمت میں کہا کہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص جنگ ریا کے واسطے کرتا ہے اور کوئی اپنی شجاعت کے اظہار کے لئے ایسا کرتا ہے، کوئی شخص قومی محبت کے لئے لڑائی میں جاتا ہے اور کوئی صرف تعصب کے سبب اس میں شامل ہوتا ہے، کسی کو سوائے اس کے غرض نہیں ہوتی کہ