ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 30
فتوحات کیں اور تخت پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔تب میں نے دیکھا کہ بادشاہ کے واسطے چاروں طر ف سے خطرات اور تفکرات ہیں اس کے واسطے کوئی آرام کی زندگی نہیں۔اس قدر مصائب جس چیز کے واسطے اٹھائے گئے وہ اتنی قیمت نہیں رکھتی۔تب میں نے اپنے شاہ بننے پر افسوس کیا اور شاہی کو چھوڑ دیا۔۱؎اور ایسے خیالات کو ہمیشہ کے واسطے ترک کر دیا۔یہ جنون نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل تھا۔ا س کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں آج تک کبھی کسی پولیٹیکل سوسائٹی میں شامل نہیں ہوا۔جس سے حکومت کے خیالات پیدا ہوں اور دنیوی عیش و آرام اور شا ن و شوکت کی اشیاء کبھی میری نگاہ میں کوئی عزت نہیں پاتیں۔طالب علمی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے میرے واسطے بڑے بڑے سامان مہیا کر دئیے تھے۔میں شاہی ہاتھیوں اور گھوڑوں پر سوار ہوتا تھا مگر انہیں راستوں میں پاپیادہ بھی چلتا تھا۔ہر دو امور میر ے واسطے یکساں تھے۔خدا کے فضل نے میری دستگیری کی۔بچپن کے عالم میں انسان کے واسطے بڑے بڑے مشکلات ہیں۔ان کے دو علاج ہیں ایک دعا دوسرے صحبت صالحین۔بچپن میں جو لوگ اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہیں وہ بڑے ہو کر آرام میں رہتے ہیں۔دیکھو ہم اس بڑھاپے میں ایسے عمدہ قویٰ رکھتے ہیں یہ اسی بچپن کی حفاظت کا نتیجہ ہے۔بچوں کے واسطے تنہائی اچھی نہیں۔تنہائی میں بہت سے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں اس سے بچناچاہیے۔اب میں تمہیں ایک چھوٹی سی سورۃ سناتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (العصر:۲،۳) قسم ہے زمانہ کی انسان گھاٹے میں ہے۔بہت لوگ زمانہ کو کوستے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے خدا تعالیٰ زمانہ کی قسم کھاتا ہے۔دیکھو! رسول اللہ ﷺ کا زمانہ کیسا مبارک زمانہ تھا کیسی تعلیم دنیا کے واسطے لایا۔مگر انسان کی عمر اس زمانہ میں گھٹ رہی ہے لوگ کہتے ہیں عمر بڑھتی ہے مگر دراصل گھٹتی ہے برف کے پگھلنے کی طرح انسان کی عمر گھٹ رہی ہے ہمارا خدا ۱؎ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کوروحانی شاہ بنادیا جہاں چار لاکھ انسان کے دل آپ کے واسطے سچی ارادت کے ساتھ ّ مسخر ہیں۔(ایڈیٹر)