ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 315 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 315

ایک مبشر خواب عاجز راقم نے محبی اخویم چودھری غلام حسین اسٹیشن ماسٹر بہاولپور کا خط پیش کیا جس میں وہ اپنا ایک خواب لکھتے ہیں کہ حضور چھوٹی مسجد میں حسب دستور درس قرآن کریم دے رہے ہیں اور سفید لباس حضور نے پہنا ہوا ہے اور تازہ عمدہ حنا کا رنگ ریش مبارک پر چڑھا ہوا ہے۔اس خواب سے بندہ کے دل میں راحت ہوئی۔فرمایا۔بڑی مبارک خواب ہے بہت مبارک ہے بہت خوشی ہوئی۔تعبیر خواب ایک شخص کا خواب پیش ہوا کہ اگر کوئی کسی سے لحاف اور توشک مانگے تو اس کی کیا تعبیر ہے؟ فرمایا۔مانگنے والے کو آرام دنیا کی خواہش ہے۔(البدر جلد ۱۰ نمبر ۱۵ مؤرخہ ۹؍ فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۲) ایوان خلافت طویل عرصہ علالت حضرت خلیفۃ المسیح کی علالت پر تین مہینے کے قریب گزرتے ہیں۔اور یہ اتنا لمبا عرصہ ہے کہ میں نے ایک روز دریافت کیا کہ حضور کی تمام زندگی میں بیماری کا اتنا لمبا زمانہ نہیں گزرا ہو گا؟ فرمایا۔کبھی نہیں۔خوشی کی بات علالت سے ایک فائدہ بھی پہنچا ہے اور وہ یہ ہے کہ دعاؤں کی تحریک ہو گئی۔قوم میں توجہ الی اللہ کا ایک جوش پیدا ہو گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اس جوش کو دیکھ کر تو یہی فرمایا کہ بڑی خوشی کی بات ہے۔جنّ کیا ہوتے ہیں؟ ایک روز سورۃ جنّ اس (حافظ روشن علی صاحبؓ) نے پڑھی اور سوال کیا کہ جنّ کیا ہوتے ہیں؟ اس کے جواب میںحضرت نے جو کچھ فرمایا میں اسے اپنے حافظہ کی بنا پر بطور خود ترتیب دے کر لکھتا ہوں۔فرمایا۔جنّ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے۔اللہ تعالیٰ نور اور ظلمت دونوں کا خالق ہے۔پھر نوری