ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 314
ہو جاتا ہے۔یہ عورت کیسی قابل استانی ہے مگر دماغ کی کنجی تو خدا ہی کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ادھر سے ادھر پھیر دی۔وہی دماغ اب دوسرے رنگ پر کام کرنے لگا ہے۔جہاں پہلے حیا اور سوچ اور فکر تھا اب آزادی اور بے حد آزادی ہے۔میں جانتا ہوں اسی طرح ایمان اور کفر کی بھی کنجی ہوتی ہے۔خدا ہی کے فضل سے انسان مومن باللہ ہو جاتا ہے وہی ہدایتوں کی راہوں کو کھولتا ہے۔بہشت اور دوزخ کی کنجی بھی ہے۔اسی کا فضل ہو تو انسان بہشت کو حاصل کرے اور دوزخ سے بچے۔بہرحال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مطالعہ عجیب چیز ہے اور جن سے اس کی کوئی نعمت چھن جاتی ہے اس کا مطالعہ بھی عجیب تاثیر رکھتا ہے۔اگر خوف اور عبرت سے انسان دیکھے تو خدا کی طرف اس سے توجہ بڑھ جاتی ہے اور یہ خوف مبارک خوف ہوتا ہے اس لئے کہا ہے ایمان امید و بیم کے درمیان ہے۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر۵ مؤرخہ ۷؍ فروری۱۹۱۱ء صفحہ ۳ تا ۶) کتابوں کا شوق (۶؍فروری بعد عصر) باوجود اس حالت تکلیف کے مفید دینی کتب کے منگوانے کا سلسلہ برابر جاری ہے۔کتابوں کی جو فہرستیں کتب فروشوں سے آتی ہیں ان کو سنتے اور کتابیں منگوانے کے واسطے نشان کراتے ہیں۔چند کتابیں اخویم محمد ذوالفقار علی خان صاحب نے رامپور سے نقل کرا کر بھیجی ہیں۔ان کا ذکر تھا۔فرمایا۔بڑی بڑی نایاب کتابیں خدا نے مجھے دی ہیں ان میں ایک محلٰی ابن حزم ہے۔تخفیف ہے فرمایا۔میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔تھوڑی دیر بغیر سہارے کے اور پھر تکیوں کے سہارے سے بیٹھے رہے۔میر ناصر نواب صاحب حاضر ہوئے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔اب بہت تخفیف ہے۔جی بیٹھنے کو چاہتا ہے یہ بھی تخفیف کا نشان ہے۔