ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 313
اس سے مجھے صرف یہی دکھانا ہے کہ حضرت کائنات کے تمام واقعات کو نہایت غور سے دیکھنے کے عادی ہیں۔صحابہؓ کی ایک خصوصیت ۶ جنوری ۱۹۱۱ء کو بعد نماز جمعہ مجھے حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔آپ نے فرمایا۔میں نے صحابہؓ کی تاریخ کو بڑے غور سے پڑھا ہے اور بہت پڑھا ہے بہت سی خصوصیتیں ان کی مجھے نظر آتی ہیں مگر ایک خصوصیت بیان کرتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ صحابہؓ میں کوئی بہرہ نہ تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا ایک نشان تھا وہ لوگ دین کے مبلغ ہونے والے تھے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سن کر انہوں نے محفوظ رکھنا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی کو بہرہ نہیں رکھا۔فرمایا۔مجھے صحابہؓ کی بعض عجیب عجیب باتیں معلوم ہوتی ہیں۔عظیم الشان صحابہؓ میں میں دیکھتا ہوں کہ کسی نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کی کسی چیز کے لئے دعا کی درخواست نہیں کی۔خدا کا احسان ہے کہ میں نے بھی حضرت صاحب سے کبھی کوئی ایسی درخواست نہیں کی۔انعامات الٰہیہ کا مطالعہ قادیان میں ایک عورت ان دنوں دماغی بیماری سے بیمار ہے۔یہ عورت ایک ذہین اور قابل استانی ہے، فارسی زبان بڑی بے تکلفی سے بولتی ہے، قرآن مجید کا بھی فہم رکھتی ہے۔خدا کی شان ہے کہ وہ عارضہ دماغ سے بیمار ہے۔اس کی حالت کے ذکر پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے انعامات ہوتے ہیں مومن کو چاہئے کہ ان انعامات کا مطالعہ کرتا رہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس محبت کی و جہ سے وہ خدا کی طرف جھکتا ہے اور توجہ الی اللہ میں ترقی کرتا ہے اور پھر شکر کی توفیق ملتی ہے۔اگر ایسا نہ کرے تو بعض وقت پر عذاب الٰہی کسی رنگ میں نازل