ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 304
بیماری سے پہلے صرف … آپ کو دو مرتبہ آنسو بہاتے دیکھا ہے ایک مرتبہ اپنے ایک بچے کی وفات پر۔اس وقت میرے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا تھا کہ یہ آنسو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے لئے نکالے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بچے کی جب وفات ہوئی تو آپ کی آنکھ سے آنسو نکلے تھے اور آپ نے فرمایا۔اِنَّا بِفِرَاقِکَ لَمَحْزُنُوْن۔(بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی ان بک لمحزنون) اسی طرح میں بھی کہتا ہوں۔اور ایک مرتبہ حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن میں حضرت کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا۔آسمان سے تقاطیر ہو رہا تھا۔اس وقت حضرت کی آنکھ سے آنسو نکلے اور فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ آسمان ان کے لئے نہیں روتا۔مگر عبدالکریم کے لئے آسمان بھی روتا ہے۔ان الفاظ کے بیان کرنے میں آپ کے لہجہ میں خاص درد اور رقت تھی۔اس کے سوا میں نے حضرت کو کبھی روتے نہیں دیکھا۔اس بیماری میں دو مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ رو پڑے۔اور جب ناظرین کو ان واقعات کا علم ہو گا جو آپ کے رونے کا موجب ہوئے تو اس سے آپ کی بعض غیر معمولی صفات کا اظہار ہوتا ہے۔ایک روز حافظ روشن علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مشہور و معروف عربی نعتیہ قصیدہ نونیہ آپ کو سنا رہے تھے۔حضرت کی محبت اور عشق نے آپ پر کچھ ایسا غلبہ کیا کہ بے اختیار آپ رو پڑے اور پھوٹ کر روئے۔قریب تھا کہ اسی جوش محبت میں آپ جان دے دیں۔آپ نے سب کو اٹھا دیا اور تنہائی حاصل کر لی۔ایسا ہی ایک دن آپ رو پڑے اور فرمایا کہ کیا قادیان میں کوئی حافظ نہیں ہے۔کوئی مجھ سے قرآن نہیں سنتا اور نہ سناتا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان مرتد ڈاکٹر نے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کے نام ایک خط لکھا جو آج کے اخبار میں کسی دوسری جگہ طبع ہے۔اس خط کو سنتے ہی آپ نے فرمایا۔مرزا فی الواقعہ سچا تھا۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد۱۵ نمبر۴ مؤرخہ ۲۸ ؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۳ تا ۵)