ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 29
پہنچتا ہے کیونکہ انسان جبکہ ایک چھوٹی سی بدکاری کو اختیار کر تا ہے تو پھر اس میں بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑے بڑے مصائب میں گرفتار ہوتا ہے۔ایسا ہی ایک عیب تکبر کا ہے۔پہلے بچہ دوسرے بچوں سے اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر تکبر کرتا ہے رفتہ رفتہ یہ تکبر کی عادت اُس کے اندر راسخ ہو جاتی ہے اور بڑا ہو کر بھی وہ متکبر ہی رہتا ہے یہاں تک کہ کسی کو سلام ہی نہیں کر سکتا جس کی سزا میں اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھی لوگوں سے ایسا معاملہ کر ادیتا ہے کہ پھر اس کوبھی کوئی سلام کرنا پسند نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک عیب کاہلی اور سستی کا ہے۔چھوٹے بچے ادنیٰ کاموں میں سستی کرتے ہیں تو رفتہ رفتہ سستی ان کی عادت میں داخل ہو جاتی ہے اور اگر دینی کاموں سے بے پرواہی کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ دین سے بے تعلق ہوتے جاتے ہیں۔دیکھو ایک ہندو بچہ اگرچہ اُس کو ہندو دھرم کے عقائد سے ہزار اختلاف ہو جب کوئی کتاب یا مضمون وغیرہ لکھتا ہے تو سرے پر لفظ اومؔ ضرور لکھ دیتا ہے مگر دین کی طرف سے بے توجہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان بچوں نے اپنے مضامین کے سرے پر بسم اللہ لکھنا ترک کر دیا ہے۔بعض بچے آسودہ حال ہوتے ہیں اُن کی طرف دیکھ کر دوسرے فضول خرچ بننا چاہتے ہیں۔یہ بھی ایک نقص ہے۔قدرت نے سب کو یکساں نہیں بنایا۔کوئی گورا ہے کوئی کالا ہے کوئی لمبا ہے کوئی چھوٹا ہے کوئی موٹا ہے کوئی دُبلا ہے۔غرض سب باتوں میں اختلاف اور فرق ہے ایسا ہی مال ودولت کے لحاظ سے بھی لوگ یکساں نہیں ہیں بلکہ ان میں بہت فرق ہے۔اس کے متعلق قرآن شریف میں ہے کہ …الخ (الحجر:۸۹)قسما قسم کے کفار کو جو کچھ دیا گیا تو ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھ یعنی ان کی کچھ پرواہ نہ کر۔مجھ پرا للہ تعالیٰ کے بڑے احسان ہیں۔میں طالب علمی کے زمانہ میں بڑے بڑ ے وسیع الخیال لوگوں کی مجلس میں رہا۔ایک دفعہ مجھے خیال ہوا کہ بادشاہ بننا چاہیے۔پس میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ میں بادشاہ کس طرح بن سکتا ہوں۔لمبے منصوبوں کا ایک بڑا سلسلہ میرے دل میں سے گزرا۔لڑائیوں کے مصائب ،دریائوں میں گرنا، قلعوں سے کودنا،جنگلوں میں سے گزرنا غرض تمام منازل طے ہو کر میں نے جاپان سے امریکہ تک