ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 297

پھر اس کے بعد فرمایا کہ میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔پھر فرمایا کہ میرا اللہ راضی ہو۔پھر یہ فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم فرمانبردار رہو۔اختلاف نہ کریو، جھگڑا نہ کرنا۔پھر فرمایا۔میں دنیا سے بہت سیر ہو چکا ہوں کوئی دنیا کی خواہش نہیں۔مر جاؤں تو میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو۔فرمایا کہ سب کو سنا دو۔پھر فرمایا۔میں دنیا کی پرواہ نہیں رکھتا۔میں نے بہت کمایا بہت کھایا بہت خرچ کیا دنیا کی کوئی حرص باقی نہیں۔پھر فرمایا۔میں نے بہت کمایا، بہت کھایا، بہت لیا، بہت دیا کوئی خواہش باقی نہیں کبھی کبھی صحت میں اس لئے چاہتا ہوں کہ گھبرا میں ایمان نہ جاتا رہے۔پھر بہت دفعہ درد انگیز لہجہ میں فرمایا کہ اللہ ۱؎ تو راضی ہو جاوے۔پھر کئی بار فرمایا۔اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنِّیْ، اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنِّیْ، اَللّٰھُمَّ ارْضِ عَنِّیْ۔اس کے بعد میں نے عرض کی کہ میں حضور کے الفاظ سنا دیتا ہوں۔جب دوبارہ یہاں تک سنا چکا تو فرمایا۔مجھے شوق یہ ہے کہ میری جماعت میں تفرقہ نہ ہو۔دنیا کوئی چیز نہیں میں بہت راضی ہوں گا اگر تم میں اتفاق ہو۔میں سجدہ نہیں کر سکتا پھر بھی سجدہ میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔میں نے تمہاری بھلائی کے لئے بہت دعائیں کیں۔مجھے طمع نہیں۔پھر فرمایا۔مجھے تم سے دنیا کا طمع نہیں۔مجھے میرا مولیٰ بہت رازوں سے دیتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔خبردار! جھگڑا نہ کرنا، تفرقہ نہ کرنا، اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا، اس میں تمہاری عزت باقی رہے گی۔نہیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔۱؎ نوٹ از ایڈیٹر : اس موقع پر حضرت کے دل میں ایسا جوش تھا کہ آپ بے اختیار رو پڑے۔