ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 296
لاہوری دوستوں کو ارشاد یہ کاپی پتھر پر جم چکی تھی اور کسی و جہ سے ۲۲ کی صبح کو چھپنے کو تھی کہ ۲۲ کو ایک بجے کے قریب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیحؑ نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے اس سوال پر کہ آپ کو کوئی خواہش ہے کچھ ارشاد فرمایا ہے۔میں جس وقت حضرت کے پاس پہنچا ہوں تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مندرجہ ذیل مضمون البدر کے لئے لکھوا رہے تھے۔میں نے اس کی اشاعت کو مقدم سمجھ کر آج اخبار کو روک کر اس مضمون کو پتھر پر سابقہ مضمون کو کاٹ کر لکھوا دیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے حضرت کے جن الفاظ کو قلم بند کیا وہ آگے آتے ہیں یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ سلسلہ کلام جیسا کہ احباب موجود نے بتایا ۱؎ ایسے طور پر شروع ہوا جس سے حضرت کی صاف گوئی اور للہیت کی بھی عجیب مثال اس وقت پیش آئی۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ میں خوا جہ صاحب اور شاہ صاحب آج جاویں گے۔حضرت نے فرمایا کہ خواجہ صاحب نے جو ایک مضمون لکھا ہے میں اس کے خلاف کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس کے خلاف میرے دل میں کئی دن سے مضامین آ رہے ہیں اس وقت طاقت ہوتی تو لکھوا دیتا۔افاقہ ہونے پر کسی کو لکھا دوں گا، سنا دوں گا۔بہرحال حضرت نے اپنے ان کلمات کو ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر مناسب موقعہ دیکھ کر جو فرمایا ہے امید ہے قوم اس پر عمل کرے گی اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔آمین۔حضرت کی یہ نصیحت ساعات عسر میں انشاء اللہ کام آئے گی۔اس پر مفصل پھر لکھوں گا۔وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق۔(ایڈیٹر) خدا کا فضل ہے کہ دورہ ماشرہ (……) جو کہ دوبارہ چیرا دینے کے بعد چہرہ پر ہو گیا تھا اب قریبًا سب اتر گیا ہے اور بخار بھی اتر گیا ہے۔طاقت پہلے کی نسبت بہت اچھی ہے۔غذا بھی خوب کھا لیتے ہیں۔ہوش و حواس بالکل درست ہیں اور ہر طرح سے بیماری رو بصحت ہے۔آج قریب ساڑھے بارہ بجے دن کے جب میں رخصت ہونے لگا تو میں نے پوچھا کہ حضور کا دل کس چیز کو چاہتا ہے؟ آپ نے بجواب فرمایا کہ میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔۱؎ جن میں خصوصیت سے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کے علاوہ شخ تیمور صاحب ایم۔اے مولوی فضل دین، میاں غلام حسین وغیرہ سے دوست جمع تھے۔