ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 293
ان واقعات نے جو تجارب صحیحہ ہیں بتا دیا ہے کہ یہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔پھر جب خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے ساتھ نہیں تو ہم اپنے مال ان کے سپرد کیوں کریں۔جناب الٰہی کا منشاء یہ نہیں کہ ان کو مؤید کرے بر خلاف اس کے اس سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے اشاعت اسلام کا ذریعہ بنایا ہے۔تم جانتے ہو کہ شروع سے لے کر اب تک کس قدر مخالفت اس کی کی گئی۔شہر والوں نے دشمنی کی، برادری نے مخالفت کی، ہندؤں نے، آریوں نے، عیسائیوں، سکھوں نے اور بالآخر خود مسلمانوں نے ایسی دشمنی کی کہ وہ چاہتے تھے کہ اس سلسلہ کا نام و نشان مٹا دیں مگر اللہ تعالیٰ نے کیسی نصرت فرمائی اور کس طرح پر اس کو نشوو نما دیا ہر مخالفت اور ہر حملہ اس کی ترقی کا موجب ہوا۔اور ایک جماعت کثیر کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا اور ہر قسم کے لوگ اس کی خدمت کے لئے جمع ہو گئے۔یہ تائید الٰہی کا ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس کا انکار نہیں ہو سکتا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو پیدا کیا ہے اور اسی کے ذریعہ یہ کام ہو گا۔(ماخوذ از کالم ’’ایوان خلافت‘‘ الحکم جلد ۱۵نمبر ۱مؤرخہ ۷؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۴ تا ۸) بیعت کے بعد مختصر نصیحت حالتِ علالت میں بھی آپ کو کلیۃً آرام کرنے کا موقعہ نہ مل سکا۔احباب بدستور آتے جاتے رہے اور بیعت کا سلسلہ جاری رہا۔آپ بیعت کے بعد مختصر سی نصیحت بھی فرماتے رہے اور وہ یہ ہے۔برُی صحبتوں سے بچو۔اور اگر کسی وجہ سے گرفتار بھی ہو جاؤ تو بہت استغفار کرو۔الحمد شریف اور درود شریف کثرت سے پڑھو۔استغفار اور لاحول کرو۔(الحکم جلد۱۵نمبر۱ مؤرخہ ۷؍ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ۹) عہد دوستی کی قدر چوہدری ولایت خاں ایک غریب آدمی ہے اور اب کچھ دنوں سے قادیان میں وارد ہے۔حضرت نے قادیان ہی میں اس کی ملازمت کے لئے تحریک کی۔لیکن سردست کوئی موقعہ غالبًا نہ تھا۔اس لئے چوہدری ولایت خاں نے ایڈیٹر الحکم کو کہا کہ وہ حضرت سے اس کے لئے جانے کی اجازت حاصل کر دے۔کیونکہ وہ زیادہ یہاں ٹھہر نہیں سکتا اور سردی سے بچنے کے لئے کافی سامان بھی اس کے پاس نہیں۔میں نے