ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 292 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 292

اشاعت اسلام اور دوسرے مسلمان ایک خادم امرتسر سے عیادت کے لئے آیا۔اس نے عرض کیا کہ اشاعت اسلام کے نام سے لوگ ہم سے چندہ مانگتے ہیں۔کیا کیا جاوے؟ فرمایا۔اشاعت اسلام تو ایک مبارک اور مفید کام ہے اور اس کے لئے ہمیں بہت تڑپ ہے اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا میں پھیلے۔مگر جو لوگ ہمارے سلسلہ کے دشمن ہیں اور اشاعت اسلام کرنا چاہتے ہیں ان کے متعلق قابل غور یہ امر ہے کہ کیا وہ مویّد من اللہ اور منصور ہیں یا نہیں؟ اس کے لئے تم اپنے ہی شہر میں دیکھو جہاں ہمارے پانچ دشمن ہیں اور وہ اشاعت اسلام کے مدعی ہیں۔اوّل غزنوی گروہ، دوم ثناء اللہ، سوم احمدیہ، چہارم اہل فقہ، پنجم مولوی محمد حسین کے ساتھ والے لوگ۔اب غور کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید اور نصرت کہاں تک کی۔حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں انہوں نے فرداً فرداً ناخنوں تک زور لگایا مگر نتیجہ کیا ہوا؟ کیا کوئی جماعت مستقل طور پر ان کو ملی۔اوّل تو باہم ان پانچوں میں بغض اور عداوت ہے اور ایک کے دوسرے کو مٹا دینے اور ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش اٹھا نہیں رکھی۔ایک دوسرے کے خلاف اشتہاروں کے ذریعہ وہ باتیں مشتہر کیں جن میں سے بعض کو شرفاء پڑھ بھی نہیں سکتے۔پھر موجودہ حالت میں غزنویوں کی جماعت جو ایک امام کے ماتحت تھی ان کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ خود ان کی اپنی ہی نسل کے لوگ اپنی مسلمہ امامت سے الگ ہو رہے ہیں اور اس گروہ کا ثناء اللہ اور احمد اللہ سے جو بغض ہے وہ ظاہر بات ہے۔ثناء اللہ اشاعت اسلام کا مدعی ہے اس کی جو حالت امرتسر میں ہوئی وہ ظاہر ہے اسے بھی کوئی جماعت نہ ملی جو اس کو اپنا امام یقین کر لیتی۔پھر اہل فقہ تھا اس نے بھی حضرت صاحب کی بڑی مخالفت کی لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ اب اہل فقہ کا نام بھی نہیں؟! مولوی محمد حسین کے ماننے والے بھی کچھ لوگ امرتسر میں تھے مگر اس کی حالت بھی اب ظاہر ہے کہ خود ثناء اللہ نے اس کی مخالفت میں بڑے بڑے مضمون لکھے۔اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید اور نصرت نہیں کی اور کوئی جماعت انہیں عطا نہیں کی بلکہ خود ان میں پھوٹ ڈال دی۔